پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

امریکہ میں مسجد نذرِ آتش کرنے کا واقعہ،جرم ثابت ،مجرم کوبڑی سزا سنادی گئی

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

فلوریڈا(آئی این پی)امریکہ میں اورلینڈو کی ایک مسجد کو نذر آتش کرنے کا الزام ثابت ہونے پر مجرم کو 30سال قید کی سزا سنادی گئی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلوریڈا کے ایک شخص کو جس نے اورلینڈو کی ایک مسجد کو نذر آتش کیا تھا، الزام ثابت ہونے پر 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔قید کے علاوہ، زرِ تلافی کے طور پر شرائیبر پر 10000 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ شرائیبر، جو یہودی ہیں، حکام سے اعتراف کر چکا ہے کہ اسی نے ہی گذشتہ 11 ستمبر کو فورٹ پیئرس کے اسلامی مرکز کو نذر آتش کیا تھا، جو 2001 کے دہشت گرد حملوں کی پندرہویں برسی تھی۔عدالت کو تحریر کردہ ایک بیان میں، شرائیبر نے کہا تھا کہ آگ نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ پریشانی کے عالم میں لگائی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا خوف تھا کہ مسلمان مزیر دہشت گرد حملے کر سکتے ہیں۔شرائیبر نے گذشتہ جولائی میں فیس بک پر لکھا تھا کہ پورا اسلام ہی انتہا پسند ہے۔فورٹ پیئرس کی مسجد کے راہنماں نے کہا ہے کہ آگ کے نتیجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہے، یہاں تک کہ وہ اس مقام سے دور جانا چاہیں گے۔ آگ میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔اورلینڈو نائٹ کلب کا حملہ آور، عمر متین کبھی اس مسجد میں جایا کرتا تھا، جب کہ عمر کے والد باقاعدگی سے وہاں نماز ادا کیا کرتے تھے۔عمر متین پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہوا، جس نے گذشتہ جون میں اورلینڈو میں پلس نائٹ کلب پر حملہ کیا تھا، جس میں 49 افراد ہلاک ہوئے۔ گولیاں چلانے سے پہلے، اس نے داعش سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…