اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

بھٹو کو ضیاء الحق نے پھانسی کس کے دباؤ پر دی؟سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات جاری، حیرت انگیزانکشافات

datetime 28  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(این این آئی)امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوشہید کی پھانسی کے لیے اس وقت کے صدرجنرل ضیاء الحق پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کاشدید دباؤتھا،میڈیارپورٹس کے مطابق مریکا کی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے اپنی ویب سائٹ’ریڈنگ روم’کے ڈیٹابیس کے لیے جاری کردہ ایک ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز ذیل میں ہے۔

اس سے پہلے ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات صرف کالج پارک میری لینڈ میں واقع نیشنل آرکائیوز میں دستیاب تھیں۔اکتوبر 1978 میں’نیشنل انٹیلی جنس ڈیلی کیبل کے نام سے جاری سی آئی اے کی ایک کیبل اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل ضیاء الحق پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے متعلق مواد پر مشتمل ہے۔کیبل کے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ کیبل بظاہرامریکی حکومتی عہدیداروں تک معلومات پہنچانے کے حوالے سے لکھی گئی، جس میں پاکستان، شام، عراق، لبنان اور برازیل کے ممالک کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔دستاویز کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء کو بنیادی طور پر آفس میں طویل عرصے تک رہنے کے لیے مسلسل فوج کی حمایت کی ضرورت ہے، کیوں کہ ان کے پاس پاکستان کے سیاسی و معاشی مسائل حل کرنے کی قابلیت نہیں۔کیبل سے پتہ چلتا ہے کہ جنرل ضیاء کی جانب سے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ فوج میں اپنے حریفوں کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،انہیں یقین ہوتا ہے کہ مارشل لا سے فوج کا تشخص اور وقار کم ہوا ہے، جس وجہ سے ان کے اور فوج کے اعلیٰ افسران کے درمیان تلخی بڑھی۔تاہم فوجی افسران نے ان کے خلاف دفتر میں اس وقت تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا جب تک ذوالفقار علی بھٹو کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی عہدیداروں کی جانب سے فروری 1979 میں مرتب کی گئی ایک اور رپورٹ میں جنرل ضیاء کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کے ٹرائل پر روشنی ڈالنے کے حوالے سے تجزیہ کیا گیا ہے۔دستاویزات کہتے ہیں کہ اگر بھٹو بچ گئے تو فوجی قیادت جنرل ضیاء کے خلاف متحد ہوجائے گی جبکہ ان کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…