جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی، گوگل نے تمام عملے کو واپس بلا لیا،مارک زکربرگ کا ٹرمپ کوانتباہ

datetime 28  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک (آئی این پی)ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے احکامات کے بعد تمام عملے کو واپس بلا لیا ۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے کہا ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے بعد اپنے اس تمام عملے کو واپس بلا لیا ہے جو بیرون ملک سفر پر ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے تحت ایران اور عراق سمیت چھ ممالک کے باشندوں کو اگلے تین ماہ تک ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد ‘انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں’ کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک طویل پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامے پر کافی ’پریشان‘ ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔گوگل نے بتایا ہے کہ اسے ایسے کسی بھی حکم یا اقدام پر تشویش ہے جس کی وجہ سے باصلاحیت افراد امریکہ نہ آسکیں۔ان نئی پابندیوں سے وہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بہت متاثر ہوں گی جو خصوصی ’ایچ ون ۔ بی‘ ویزے پر بیرون ملک سے ہنرمند افراد کو بلاتی ہیں۔بی بی سی کے بزنس کے نامہ نگار جو لینم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایران، شام، یمن، سوڈان، صومالیہ اور لیبیا کے ہزاروں شہری امریکہ آنے والی پروازوں پر سوار نہیں ہو سکیں گے خواہ ان کے پاس وہاں کا گرین کارڈ (مستقل رہائش کا اجازت نامہ) ہی کیوں نہ ہو۔کچھ رپبلکنز نے صدر کے اس اقدام کی تعریف کی ہے

جس میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے کہ ہم چیزوں کا دوبارہ جائزہ لیں اور ویزوں کے اجرا کے عمل کو اور مستحکم بنائیں۔ امریکہ میں مقیم ایک عراقی صحافی نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ان کے والد کو قطر سے لاس اینجلس آنے والی پرواز پر سوار نہیں ہونے دیا گیا۔

نیشنل ایرانین امیریکن کونسل کے جمال عابدی نے تحقیقاتی صحافت کرنے والے تنظیم ’پرو پبلیکا‘ کو بتایا کہ ’ہم پر فون کالز اور سوالات کی بھر مار ہو رہی ہے کہ اس فیصلے سے لوگوں پر کیا اثر پڑے گا۔امریکین اسلامک ریلیشن کونسل کا کہنا ہے کہ وہ اس ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک طویل پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامے پر کافی ’پریشان‘ ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…