پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی، گوگل نے تمام عملے کو واپس بلا لیا،مارک زکربرگ کا ٹرمپ کوانتباہ

datetime 28  جنوری‬‮  2017 |

نیویارک (آئی این پی)ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے احکامات کے بعد تمام عملے کو واپس بلا لیا ۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے کہا ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے بعد اپنے اس تمام عملے کو واپس بلا لیا ہے جو بیرون ملک سفر پر ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے تحت ایران اور عراق سمیت چھ ممالک کے باشندوں کو اگلے تین ماہ تک ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد ‘انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں’ کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک طویل پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامے پر کافی ’پریشان‘ ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔گوگل نے بتایا ہے کہ اسے ایسے کسی بھی حکم یا اقدام پر تشویش ہے جس کی وجہ سے باصلاحیت افراد امریکہ نہ آسکیں۔ان نئی پابندیوں سے وہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بہت متاثر ہوں گی جو خصوصی ’ایچ ون ۔ بی‘ ویزے پر بیرون ملک سے ہنرمند افراد کو بلاتی ہیں۔بی بی سی کے بزنس کے نامہ نگار جو لینم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایران، شام، یمن، سوڈان، صومالیہ اور لیبیا کے ہزاروں شہری امریکہ آنے والی پروازوں پر سوار نہیں ہو سکیں گے خواہ ان کے پاس وہاں کا گرین کارڈ (مستقل رہائش کا اجازت نامہ) ہی کیوں نہ ہو۔کچھ رپبلکنز نے صدر کے اس اقدام کی تعریف کی ہے

جس میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے کہ ہم چیزوں کا دوبارہ جائزہ لیں اور ویزوں کے اجرا کے عمل کو اور مستحکم بنائیں۔ امریکہ میں مقیم ایک عراقی صحافی نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ان کے والد کو قطر سے لاس اینجلس آنے والی پرواز پر سوار نہیں ہونے دیا گیا۔

نیشنل ایرانین امیریکن کونسل کے جمال عابدی نے تحقیقاتی صحافت کرنے والے تنظیم ’پرو پبلیکا‘ کو بتایا کہ ’ہم پر فون کالز اور سوالات کی بھر مار ہو رہی ہے کہ اس فیصلے سے لوگوں پر کیا اثر پڑے گا۔امریکین اسلامک ریلیشن کونسل کا کہنا ہے کہ وہ اس ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک طویل پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامے پر کافی ’پریشان‘ ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…