اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

حج کے دوران یہ قانون سب پر لاگوں ہو گا؟؟ سعودی عرب نے واضح اعلان کر دیا

datetime 31  دسمبر‬‮  2016 |

ریاض( آن لائن )سعودی عرب کے وزیر برائے امور حج وعمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایرانی حجاج کرام سمیت دنیا بھرسے آنے والے عازمین حج کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مملکت ایران سمیت کسی بھی ملک سے آنے والے حجاج کرام کے ساتھ ان کے رنگ، نسل اور مسلک کی بنیاد پر امتیاز نہیں برت رہی بلکہ تمام حجاج کرام کو یکساں احترام دینے کے ساتھ سب پر ایک ہی ضابطہ اخلاق لاگو کرنے کی خواہاں ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر برائے امور حج وعمرہ نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب وزارت حج دنیا بھر کے 80 ملکوں سے حج وعمرہ محکموں کے وفود کے ساتھ آئندہ حج کی تیاریوں پر بات چیت کررہی ہے۔ تاکہ اللہ کے مہمانوں کو حجاز مقدس آمد پر زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جاسکیں۔ نیز مسلمان ملکوں اور غیرمسلم ممالک میں مسلمان اقلیت کو حج کے امور میں درپیش مشکلات کو حل کرنے میں ان کی مدد کی جاسکے۔وزیر طاہربنتن نے کہا کہ انہوں نے اسلامی ممالک اور غیرمسلم ملکوں میں مسلمان اقلیتوں کے نمائندگان سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کے مسائل سنیں اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔وزیر حج نے بتایا کہ آئندہ موسم حج کے لیے انتظامات آج ہی سے شروع کردیے گئے ہیں۔ شیڈول کے مطابق محکمہ حج کے تمام ذیلی اداروں، ٹرانسپورٹ یونین، کمیونٹی کے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان کورآرڈی نیشن بڑھانے، دوسرے ملکوں کے حج محکموں کے درمیان حجاج کی آمد ورفت کے حوالے سے ضابطہ اخلاق طے کرنے اور حجاج کرام کی سعودی عرب میں آمد کے بعد ان کی نقل وحرکت اور ان کے قیام کے مقامات کے تعین کے لیے بات چیت جاری ہے۔سعودی وزیر برائے حج وعمرہ کا کہنا ہے مملکت دنیا بھر سے آنے والے مسلمان عازمین حج کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی پابند ہے تاکہ حجاج کرام سہولت اور آسانی کے ساتھ حج اور عمرہ کے مناسک و فرائض کی انجام دہی کر سکیں۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…