اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )امریکا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق ڈوزیئر کا جائزہ لینے کا عندیہ دیدیا۔ ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کریں۔نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مارک ٹونر کا میڈیا کو بریفنگ میں کہنا تھا کہ پاکستانی ڈوزیئر کے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں ، تاہم اسے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی عالمی رپورٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا امریکا پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی متنازع معاملات چل رہے ہیں، خطے کے مفاد کے لیے دونوں ممالک میں مصالحت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے متعلق امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امریکا کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک آپس کے تنازعات کو مذاکرات سے حل کریں اسی میں دونوں کا مفاد ہے۔جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مارک ٹونر نے تبصرے سے گریز کیا جب کہ افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و امان پورے خطے کے مفاد میں ہے۔نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان کو افغان سیکورٹی فورسز کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ ہلمند پر طالبان کا حملہ افغانستان میں امن کے لیے خطرہ ہے۔
جبکہ دوسری طرف امریکا نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو خطرہ برقرار رہا تو امریکا ان کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے باغی گروپ ساحل سمندر میں موجود امریکی جہازوں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ہم ان حملوں کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں۔خیال رہے کہ ایک ہفتے کے دوران یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سمندر میں موجود امریکی بحری جہاز پر دو بار راکٹ حملے کیے تاہم ان حملوں میں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثیوں کی طرف سے راکٹ حملوں کا خطرہ برقرار رہتا ہے تو وہ باغیوں کی سرکوبی کے لیے تیار ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یمنی باغیوں نے بحر احمر میں ’ٹوماھاک‘ راکٹوں کی مدد سے ’یو ایس ایس نیٹز‘ بحری جنگی جہاز کے تین راڈار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر ان حملوں میں جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔پینٹا گون کا کہنا تھا کہ یمنی باغی ممکنہ طور پر سی 802 سیلک ورم طرز کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل استعمال کررہے ہیں جو قریبا ایک سو کلو میٹر کے فاصلے سے داغے جاتے ہیں۔دریں اثناء یمن کے عسکری ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مں حرف سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورس نے یمن کے مغربی ساحل پر اپنی کمک بڑھا دی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے بعد یمنی باغیوں نے ساحلی علاقوں میں اپنے کیمپوں میں مزید نفری اور اسلحہ پہنچانا شروع کردیا ہے۔
امریکہ ، بھارتی مظالم پر کیا اقدامات اٹھانے جارہا ہے ؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی



















































