جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

آرمی چیف اور خفیہ ایجنسی کو اپنے ماتحت لانے کا اعلان

datetime 31  جولائی  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک )ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے خفیہ ادارے اور مسلح افواج پر ان کا براہ راست کنٹرول ہواوراس سلسلے میں حکومت آئین میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرے گی، فوج کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے اسلحے میں اضافہ کیا جائے گا، تمام فوجی سکول بند کر دیے جائیں گے اور ایک قومی عسکری یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔گزشتہ روز ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت آئین میں تبدیلیوں کے لیے پارلیمان سے رجوع کرے گی۔صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ تمام فوجی سکول بند کر دیے جائیں گے اور ایک قومی عسکری یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے اسلحے میں اضافہ کیا جائے گا۔
صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ وہ ترکی کے خفیہ ادارے اور فوجی سربراہ کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے آئینی میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ہم پارلیمان میں ایک آئینی پیکج متعارف کروائیں گے اگر وہ منظور ہوگیا تو نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزئشن (ایم آئی ٹی) اور چیف آف سٹاف براہ راست صدرات کے زیر اثر آجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بری، بحری اور فضائیہ کے سربراہان وزیر دفاع کو براہ راست رپورٹ کریں گے۔صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ وہ خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی اور اس کے سربراہ کی جانب سے بغاوت کی رات موصول ہونے والی معلومات سے ناخوش تھے اور انھوں نے وقت کے ضیاع کی شکایت کی تھی۔
ان کا کہنا تھاکہ بدقسمتی سے یہ انٹیلی جنس کی شدید ناکامی تھی۔خیال رہے کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد 18000 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔جبکہ جمعرات کو فوج میں تبدیلیوں کا اعلان کرے ہوئے 1700 فوجی اہلکاروں کو برطرف کر دیا تھا اور اب تک 40 فیصد جرنیل اپنے عہدوں سے برطرف ہو چکے ہیں۔پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔اس کے علاوہ ملک کے142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہیاور متعدد صحافی بھی زیرِ حراست ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…