ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں تارکین وطن کے سماجی انضمام ، پناہ کے متلاشی افراد کو روزگار کی فراہمی کا قانون منظور

datetime 9  جولائی  2016 |

برلن(این این آئی)وفاقی جرمن پارلیمنٹ نے ملک میں آنے والے تارکین وطن کے سماجی انضمام اور پناہ کے متلاشی افراد کو روزگار کی فراہمی سے متعلق نئے قوانین کی منظوری دے دی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ کے منظور کردہ مہاجرین کے سماجی انضمام سے متعلق نئے قوانین کے مطابق جرمن معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش نہ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو ریاست کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات روک دی جائیں گی۔وفاقی چانسلر میرکل نے چار ماہ قبل ایسے قوانین بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئے سماجی قوانین تاریخی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی کو مہاجرین کی جانب سے دو طرح کے چیلنج درپیش ہیں، جن میں سے پہلا ان کی جرمنی آمد کو محدود کرنا اور دوسرا ملک میں رہائش پذیر مہاجرین کو مقامی معاشرے میں ضم کرنا ہے۔جرمنی میں موجود مہاجرین کے بارے میں ان نئے قوانین کو ’قانون برائے سماجی انضمام‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں مہاجرین کے لیے سماجی انضمام کے کورسز سے لے کر ان کی تعلیم، فنی تربیت، ملازمت اور ان کے جرمنی میں رہائش کے حقوق تک جیسے سبھی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ان قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے والے مہاجرین کو اس عمل کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔ تعاون نہ کرنے والے مہاجرین کو نہ صرف سماجی سہولیات سے محروم کر دیا جائے گا بلکہ انہیں جاری کردہ عارضی رہائش نامے بھی منسوخ کیے جا سکیں گے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے برلن حکومت کے ان نئے قوانین پر شدید تنقید کی ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی میں سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر آئیدین اْوزوس نے بھی ان قوانین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوانین انہی لوگوں کو معاشرتی طور پر ’الگ تھلگ‘ کر دینے کا سبب بن جائیں گے، جنہیں معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کے تحت یہ قانون سازی کی گئی ہے۔اْوزوس کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ قوانین جرمنی آنے والے مہاجرین کا سماجی انضمام یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں تاہم ان میں ایک اہم بات کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ریاست کی فراہم کردہ ’سہولیات کا حق دار‘ کون ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…