لندن(این این آئی)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افغانوں کی تعداد دگنی ہو کر 1.2 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے بتائی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایمنسٹی کی طرف سے متنبہ کیا گیا کہ بنیادی انسانی ضروریات کی عدم دستیابی کے باعث یہ لوگ بقاء کے خطرات سے دوچار ہیں۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق بے گھر ہونے والے افغانوں کی صورتحال حالیہ چند برسوں کے دوران خراب ہوئی ہے، جس کی وجہ عالمی امدادی اداروں کی توجہ اور امدادی رقوم کا دیگر بحران زدہ علاقوں کی طرف منتقل ہونا بتائی گئی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے ڈائریکٹر چمپا پٹیل کے مطابق چونکہ دنیا کی توجہ افغانستان سے ہٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے، اس لیے ہمیں تنازعے سے متاثر ہونے والوں کی صورتحال کے نظر انداز کر دیے جانے کا خطرہ ہے۔ ان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے، تحفظ کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑنے کے باوجود بھی افغانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے اپنے ہی ملک میں حالات بد تر ہو رہے ہیں اور وہ اپنی بقاء کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جس کے خاتمے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آ رہی۔تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق 2014ء کے اختتام پر افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد سے بغاوت مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2001ء میں امریکی سربراہی میں بین الاقوامی فورسز کی طرف سے طالبان کو حکومت سے بے دخل کیے جانے کے بعد سے اب وہ مضبوط ترین پوزیشن میں ہیں۔ طالبان کی طرف سے موسم بہار کے سالانہ حملوں کا آغاز گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، جن کا مقصد مغربی دنیا کی حمایت یافتہ حکومت کو کابل سے نکال کر اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔ایمنسٹی کے مطابق بے گھر ہونے والے افغانوں کے پاس سر چھپانے کی مناسب جگہ، خوراک، پانی اور صحت سے متعلق سہولیات کے فقدان کے علاوہ انہیں بے روزگاری کا بھی سامنا ہے اور نہ ہی ان کے بچے تعلیم تک رسائی رکھتے ہیں۔افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں پناہ گزین ایک ایسی ہی افغان خاتون نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہاں تو ایک جانور بھی اس طرح کی جھونپڑی میں نہیں رہے گا، مگر ہمیں رہنا پڑ رہا ہے۔ اس خاتون کا مزید کہنا تھا، ’’میں اس جگہ رہنے کے بجائے جیل میں رہنے کو ترجیح دوں گی۔ کم از کم جیل میں مجھے خوراک اور چھت کی فکر تو نہیں ہو گی۔ایمنسٹی کے مطابق خوراک کی کمیابی کے باعث بعض لوگ دن میں محض ایک وقت کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اس گروپ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور افغان حکومت کو لازمی طور پر ان بے گھر ہونے والے افغان شہریوں کی ضروریات کو دیکھنا چاہیے، ’اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے‘۔
افغانستان میں امن کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے،تین برس میں وہ ہوگیا جو کسی نے سوچا تک نہ تھا،عالمی تنظیم کے خوفناک انکشافات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئی سٹل لو یو
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
19 سے 22 مئی کے دوران ملک کے مختلف اضلاع میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کی پیش گوئی
-
عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کے خلاف پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ
-
خلائی مخلوق جلد زمین پر اترے گی؟ امریکی ایف بی آئی کی خفیہ دستاویز نے تہلکہ مچا دیا
-
خاتون نے شوہر سے ملکر عاشق کو ہلاک کر دیا، لاش ڈرم میں ڈال کر نالے میں پھینک دی
-
چین کے سرکاری عشائیے میں ایلون مسک کی دلچسپ حرکات وائرل
-
منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی
-
14سالہ لڑکے کو دوست نے زیادتی کے بعد ہلاک کردیا
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر خوفناک آگ بھڑک اٹھی
-
بجٹ 27۔2026 میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس شرح میں کمی کی تجویز
-
پنکی کے انکشافات پر ملک گیر کریک ڈان، افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار
-
منشیات فروش پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں



















































