جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

خواب ادھورے رہ گئے،امریکہ کے جواب پر بھارت ششدر

datetime 27  مئی‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی چیئرمین سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی نے بھارت کو نیوکلیئرسپلائرگروپ کی رکنیت دینے کی مخالفت کردی ۔ سینیٹرایڈمار کے نے کہاکہ بھارت این ایس جی میں شمولیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔امریکی سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرایڈمارکے نے کمیٹی کو بتایا کہ بھارت کی نیو کلیئرسپلائرگروپ میں شرکت سے خطے میں نئی ایٹمی دوڑ شروع ہوسکتی ہے ٗبھارت کو این ایس جی کا رکن بنانے کا مطلب ایک نئی ایٹمی جنگ کو ہوا دینا ہے۔ایڈ مارکے نے کہا کہ بھارت کو پہلے ہی نیوکلیئرمعاملات میں چھوٹ دی جاچکی ہے تاہم بھارت کورکنیت ملنے پرپاکستان اپنے ایٹمی ہتھیارفرنٹ لائن پرلاسکتا ہے۔دریں اثناء امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے خبردار کیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں بھارت کی شمولیت سے جنوبی ایشیا میں ایک نہ ختم ہونے والی ایٹمی دوڑ کا آغاز ہوجائیگا۔سینیٹرمارکی نے جنوبی ایشیا کے لیے امریکا کی اسسٹنٹ سیکرٹری نشا بسوال کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں اس سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوجائیگا جو کبھی نہ ختم ہونے والے ایک سائیکل کو جنم دیگا جس کے بعد پھر جنگی ایٹمی ہتھیاروں سمیت دیگر جوہری ہتھیار تیار کیے جائیں گے۔امریکہ ٗ بھارت تعلقات کے حوالے سے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت کے دوران سینیٹر مارکی نے امریکی عہدیداران کو یاد دلایا کہ اوباما انتظامیہ کی بھارت کو این ایس جی میں شمولیت میں مدد دینا خطرناک اور غیر ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو دی جانے والی ان مراعات سے پاکستان بھی اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کرے گاجو ایک بہت خطرناک رجحان ہے، خاص طور پر اْس وقت جبکہ ہم جوہری ہتھیاروں کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں میں جانے کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔سینیٹر مارکی نے کہاکہ اگر بھارت این ایس جی کی رکنیت حاصل کرلیتا ہے تو وہ واحد حکومت ہوگی جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کا حصہ نہیں ہوگی۔س موقع پر اسسٹنٹ سیکریٹری بسوال نے کہا کہ صدر براک اوباما نے یہ یقین دلایا ہے کہ بھارت شرائط پر پورا اترتا ہے اور این ایس جی میں شمولیت کیلئے تیار ہے تاہم سینیٹر مارکی نے اْن کی اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ این ایس جی کی شرائط کو واضح طور پر پڑھنے سے اس منطقی انجام پر پہنچا جاسکتا ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم بھارت کو رعایت دے رہے ہیں تو ہم پاکستان کو اپنی مرضی کرنے سے کس طرح سے روک سکتے ہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…