ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

ترک صدر نے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کا استعفی منظور کرلیا

datetime 23  مئی‬‮  2016 |

انقرہ(آئی این پی) ترک صدر طیب اردگان نے وزیراعظم احمد داد اوغلو کا استعفی منظور کرلیا ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر نے احمد داد اوغلو کا استعفی حکمران جماعت کی جانب سے پارٹی کا نیا چیف مقرر کیے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد منظور کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں ترک صدر طیب اردگان نے احمد داد اوغلو کی خدمات کو سراہا ہے۔ترکی کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (جے کے پی) کی جانب سے مقرر کئے جانے والے نئے پارٹی چیف بن علی یلدرم ہی ترکی کے نئے وزیراعظم ہوں گے اور انھیں جلد حکومت کی تشکیل کی دعوت دی جائے گی۔یاد رہے کہ بن علی یلدرم کے پاس سے اس سے قبل وزارت ٹرانسپورٹ کا قلمندان تھا۔خیال رہے کہ ترک وزیراعظم احمد داد اوگلو نے رواں ماہ کے آغاز میں وزارت اور پارٹی کی سربراہی سے استعفی دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی ان کہ منہ سے صدر طیب اردگان کیخلاف ایک لفظ بھی نہیں سن پائے گا۔احمد داد نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ‘میں نے فیصلہ کیا ہے کہ حکمران جماعت کی یکجہتی کیلئے پارٹی چیئرمین کی تبدیلی زیادہ مناسب ہے، میں 22 مئی کو کانگریس میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا ہوں’۔یاد رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے ترک وزیراعظم احمد داد اوغلو اور صدر طیب اردوان کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کررہی تھیں۔احمد داد اوغلو نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ترکی میں 2002 سے برسراقتدار رہنے والی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی(اے کے پی) کے چیئرمین کے منصب سے بھی مستعفی ہورہے ہیں۔احمد داد اوغلو نے مزید کہا تھا کہ انھوں نے پارٹی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ حکمران جماعت کے قانون ساز کے طور پر بھی کام جاری رکھیں گے۔صدر طیب اردگان کے ساتھ وفاداری کا عہد کرتے ہوئے احمد داد اوغلو نے کہا تھا کہ صدر کا احترام انہی کیلئے ہے، اور تجویز دی کہ وہ پارٹی میں اختلاف ڈالنے والے کسی بھی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گے۔واضح رہے کہ احمد داد اوگلو کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب کچھ ہی روز قبل ان کی حکومت نے دوسری اہم اور بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جس میں یورپی یونین کے ایگزیکیٹو کمیشن نے ایک معاہدے کی منظوری دے دی تھی، جس میں سفارش پیش کی گئی تھی کہ ترک شہریوں کو ویزے کے بغیر یورپ کا سفر کرنے کا حق دیا جائے۔خیال رہے کہ احمد داد اوغلو نے 2014 میں بھی وزارت کے منصب سے استعفی دے دیا تھا جسے اس وقت کے صدر طیب اردگان نے قبول کرتے ہوئے نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی تھی جب حکمران جماعت نے انتخابات کے دوران اکثریت کھو دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…