ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

بھارت اور نیپال میں کشیدگی، تیسرے ملک نے بھی اپنا سفیر واپس بلالیا

datetime 8  مئی‬‮  2016 |

کٹھمنڈو(نیوزڈیسک)نیپالی حکومت نے بھارت میں تعینات اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے جبکہ ملکی معاملات میں ہمسایہ ملک بھارت کی ’دخل اندازی‘ کی وجہ سے نیپالی صدر نے اپنا نئی دہلی کا دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کے بعد دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں تعینات نیپالی سفیر دیپ کمار اپادھیائے کو جمعے کے رات واپس ملک بلا لیا گیا تھا اور اس کی وجہ مبینہ طور ان کی طرف سے نیپالی اپوزیشن کا ساتھ دینا ہے، جسے بھارت حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ فرانسیسی خبرایجنسی نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دیپ کمار نیپالی کی ماو¿ نواز اپوزیشن جماعت کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ پارٹی وزیراعظم کے پی شرما اولی کی حکومت گرانا چاہتی ہے۔گزشتہ ہفتے نیپالی پارلیمان میں اس وقت افراتفری پھیل گئی تھی، جب حکومتی اتحاد میں شامل ماو¿ نواز گروپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ اتحاد سے الگ ہو جائیں گے تا کہ وزیراعظم کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے مبینہ طور پر بھارت کا ہاتھ تھا۔ تاہم اس اعلان کے بعد ماو¿ نواز اپوزیشن نے حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا تاکہ جمہوری نظام چلتا رہے۔ایک حکومتی عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ”دیپ کمار اپادھیائے کا نیپالی کانگریس میں کافی اثرورسوخ ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی تحریک میں ان کا اہم کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔“ اپادھیائے کو اپریل 2015ء میں کانگریس جماعت کی قیادت والی حکومت کی طرف سے بھارت میں سفیر مقرر کیا گیا تھا۔دوسری جانب نیپالی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور گوپال کھنال نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ بھارت میں تعینات سفیر کو کیوں واپس بلایا گیا ہے،بھارت اور نیپال کے تعلقات ایک طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ خاص طور سے ان پڑوسی ممالک کے مابین پانی کی تقسیم کا تنازعہ ہمیشہ سے عدم اعتماد اور دوستانہ ماحول کے فقدان کا سبب بنا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…