ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

اٹلی میں مسجدوں کی کمی بڑا مسئلہ بن گئی ، 16لاکھ مسلمانوں کےلئے صرف 8 مساجد

datetime 8  مئی‬‮  2016 |

روم/لندن (نیوز ڈیسک) اٹلی میں مسجدوں کی کمی بڑا مسئلہ بن گئی ، اٹلی میں16لاکھ مسلمانوں کےلئے صرف 8 مسجدیں ہیں، دوسری طرف بلجیم وزیر کو خوف لاحق ہے کہ یور پ میں بہت جلد مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں سے زیادہ ہوجائے گی۔برطانوی اخبار” دی سن“ کے مطابق بلجیم وزیر نے دعوی کیا ہے مسلمانوں کی تعداد یورپ میں عیسائیوں سے زیادہ ہوجائے گی، یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کوین گرین نے کہا کہ یورپی یونین کو اس بات کا ابھی احساس نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بلجیم میں 6سے7لاکھ مسلمان آباد ہیں ۔دوسری طرف ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹلی میں ایک عشاریہ 6 ملین آبادی کے ملک میں8مسجدیں ہیں،فرانس جہاں مسلمانوں کی آبادی اٹلی سے تین سے چار گنا زیادہ ہے وہاں مسجدوں کی تعداد2200ہے ،فرانس کا سیکولر آئین ریاست کو کسی بھی عبادت کی عمارت کو تعمیر کرنے سے منع کرتا ہے۔برطانیہ میں جہاں مسلمانوں کی آبادی28لاکھ کے قریب ہے اور یہ آبادی اٹلی کے مقابلے میں دگنی ہے وہاں مسجدوں کی تعداد 1500ہے۔پاڈوایونیورسٹی کے محقق اور اٹلی کی مساجد کتاب کے مصنف کے مطابق اٹلی میں مساجد کے علاوہ 800 ثقافتی مراکز اور مصلح خانے ہیں جنہیں رسمی طور پر عبادت کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اٹلی میں اکثر مسلمان گیراج،تہہ خانے اور گوداموں کو عبادت کےلئے استعمال کرتے ہیں۔اٹلی میںمساجد کی کمی کے کئی عوامل میں پہلی وجہ یہ ہے کہ اٹلی میںاسلام کوباضابطہ طور پر ایک مذہب کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا جیسا کہ رومن کیتھولک چرچ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔اگراٹلی میںعوام کی طرف سے مسجدوں کے فنڈز اکھٹے بھی کرلیے جائیں تو مسجدوں کو کھولنے کیلئے حکام کی طرف سے اجازت ملنا بہت مشکل ہےاور اکثر مقامی کمیونیٹیز کی طرف سے مسجد کی تعمیر کی مخالفت سامنے آجاتی ہے۔تاہم مذہبی مقامات کی تعمیر کے سلسلے میں اٹلی کے مسلمان بیرونی دنیا کے مسلمان ممالک کی طرف سے فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں جن کی مثالیں روم میں مسجد کی تعمیر میں سعودی عرب اور کئی دیگر مذہبی اداروں کی تعمیر میں قطر کی طرف سے فنڈنگ سامنے ہے۔تاہم انتہاپسندی کے خدشے کے پیش نظر عبادت گاہوں کےلئے بیرونی فنڈنگ کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔اٹلی کے باشندے زیادہ تر کیتھولک کے پیروکار ہیں ،تاہم چالیس لاکھ آبادی کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔جنوری 2016تک، وزارت داخلہ کے مطابق اٹلی میں 50لاکھ تارکین وطن آباد ہیں جو اٹلی کی مجموعی آبادی کا 8عشاریہ4فی صد ہیں۔اٹلی میں ہر تین میں سے ایک تارکین وطن مسلمان ہے جو مجموعی آبادی کا 2اعشاریہ 6فی صد ہے۔ تاہم2030میں اس میں دگنا اضافہ ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…