برلن(نیوز ڈیسک) پاناما پیپرز کو لیک کرنے والے مخبر ‘جون ڈو’ نے لیکس کے پیچھے موجود دستاویزات کو حکومتوں کو فراہم کرنے کی پیشکش کے ساتھ ساتھ مناسب تحفظ کا مطالبہ کردیا۔جرمن اخبار اور انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) کو جاری کیے گئے بیان میں گمنام ذرائع ‘جون ڈو’ نے واضح کیا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی حکومت یا انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام نہیں کرتے اور ان دستاویزات کو لیک کرنے کے فیصلے کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے بلکہ انھوں نے یہ کام ‘ناانصافیوں کے بیان کردہ پیمانے’ کی وجہ سے کیا۔دی ریولوشن وِل بی ڈیجیٹائزڈکے عنوان سے شائع ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘اگر صرف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ہی ان اصل دستاویزات تک رسائی حاصل کرکے ان کی جانچ کرلیں تو پاناما پیپرز سے ہزاروں کی تعداد میں مقدمات کا آغاز ہوسکتا ہے۔ آئی سی آئی جے اور ان کی شراکت دار پبلیکیشن نے درست کہا ہے کہ وہ انھیں کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو فراہم نہیں کریں گے لیکن میں اْس حد تک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کروں گا، جتنا میں کرسکتا ہوں۔ایڈورڈ اسنوڈن اور بریڈلے برکن فیلڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈو نے مخبروں کے لیے مخصوص تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ‘جائز مخبر’ حکومتی عتاب سے استثنیٰ کا مستحق ہے۔پاناما پیپر کو سامنے لانے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے لائفرم ‘موزیک فانسیکا’ کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس کے بانی، ملازمین اور کلائنٹس کو جواب دہ ہونا چاہیے کیونکہ کاغذی کمپنیاں بالعموم نہ صرف ٹیکس چوری کے جرم میں ملوث ہوتی ہیں بلکہ انھیں سنگین جرائم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ڈو نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ نظام امیروں کو قانون کی گرفت میں لانے میں ناکام ہوگیا ہے اور میڈیا اور قانون بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ ان کا خیال ہے کہ بینکوں، مالیاتی ریگولیٹرز اور ٹیکس حکام ‘امیروں کو چھوڑنے’ اور درمیانے اور کم آمدنی والے شہریوں کو قابو کرنے کے فیصلوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء بھی بڑی حد تک کرپٹ ہیں جبکہ بڑے بڑے دعووں کے باوجود متعدد بڑے میڈیا اداروں نے اس معاملے کی کوریج نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جن کے ایڈیٹرز کو پاناما پیپرز کی دستاویزات کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ڈو کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ کڑوا سچ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی اور مشہور میڈیا تنظیموں میں سے کوئی ایک بھی اس اسٹوری میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، حتیٰ کہ وکی لیکس نے بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
پاناما پیپرزسامنے لانے والے شخص نے خاموشی توڑ دی،حکام کو مدد کی پیشکش کے بدلے معافی کا مطالبہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
نئے سال پر عوام کو بڑا ریلیف مل گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حیران کن کمی
-
فیض حمید لوگوں کو سرد خانے میں لاشوں کے ساتھ قید کرتے تھے، جاوید چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
بھارت کی خوبرو اداکارہ نے خودکشی کرلی؛ چونکا دینے والی وجہ سامنے آگئی
-
خاتون کیساتھ چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی
-
پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ڈالر کی نئی قیمت جاری
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
یکم جنوری سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان
-
سال کے آخری روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی، 2025 میں سونا کتنا مہنگا ہوا؟
-
تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اوربرف باری کی پیشگوئی
-
سال کے پہلے دن سونا سستا، قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
-
زبانی لین دین پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال پر پابندی عائد















































