جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں بھی عدالتوں کے ذریعے پسند کی شادیاں،حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  مئی‬‮  2016 |

الریاض(نیوزڈیسک) سعودی عرب کی وزارت انصاف نے کہاہے کہ اس سال کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں 517 خواتین نے عدالتوں کی مدد سے پسند کی شادیاں کی ہیں۔عدالتوں سے شادی کے لیے رجوع کرنے والے ان خواتین میں 501 غیر ملکی خواتین ہیں اور صرف 16 سعودی شہری ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطا بق وزارت انصاف کے ترجمان نے کہاکہ عدلیہ کی مدد سے شادی کرنے والی 14 سعودی خواتین کا تعلق صوبہ مکہ سے ہے اور دو مشرقی صوبے سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ اس سال کے دوران مملکت کے دوسرے صوبوں میں عدل کے کوئی کیس دائر نہیں کیے گئے ہیں۔عدل کے کیس سے مراد خواتین کی ایسی قانونی چارہ جوئی ہے جس میں وہ اپنے سرپرست اور ولی (گارڈین) کے خلاف اپنی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عاید کرتی ہیں اور عدالت سے انصاف کی طالب ہوتی ہیں۔اس ذریعے کا کہنا ہے کہ سعودی عدالتیں اس طرح کے کیسوں کی سماعت کے دوران قانونی طریق کار پر سخت سے کاربند ہوتی ہیں۔اگر کوئی عورت مقامی عدالت میں اپنے سرپرست کے خلاف عدل کی درخواست دائر کرتی ہے تو جج سب سے پہلے اس عورت اور اس کے سرپرست کے درمیان مصالحت کی کوشش کرتا ہے۔اگر جج ان کے درمیان مصالحت میں ناکام رہے تو پھر وہ ولی سے یہ کہے گا کہ وہ عورت کی ولایت اپنے خون کے کسی اور رشتے دار کو منتقل کردے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اگر سرپرست اس تجویز کو مسترد کردے تو پھر جج بہ ذات خود ہی عورت کا ولی بن جاتا ہے اور وہ اس عورت کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی پسند کے مرد سے شادی کرسکتی ہے۔جب عدالت میں خاتون اپنے ولی کی تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے تو بالعموم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے درخواست دینے والے اپنی تجویز سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔تاہم سرپرست یا ولی کو خاتون کی پسند کی شادی میں حائل ہونے کا اختیار نہیں ہے۔سعودی ضابطہ قوانین کی دفعہ 33 کے تحت سول عدالتوں کو اس بات کا مجاز بنایا گیا ہے کہ وہ خواتین کے ولی کے بغیر شادی سے متعلق کیسوں کی سماعت کریں اور ان کی شادی میں مدد دیں یا انھیں پسند کی شادی سے روکنے والے سرپرستوں کے خلاف کیسوں کی سماعت کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…