جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

بنگلہ دیش میں جہادیوں کے قدم مضبوط ہورہے ہیں، امریکا کی تشویش

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

ڈھاکہ(نیوزڈیسک) بنگلہ دیش میں امریکا کے ایک بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے کارکن کے بہیمانہ قتل کے بعد واشنگٹن انتظامیہ نے کہاہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں مسلم انتہا پسندی کے رجحان سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش روایتی طور پر جنوبی ایشیا کا مذہبی رواداری والا معاشرہ مانا جاتا ہے تاہم چند روز قبل اس ملک میں امریکی ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے ایک کارکْن اور ہم جنس پرستوں کے بارے میں نکلنے والے ایک رسالے کے ایڈیٹر ذولحاج منان کے قتل کی وجہ سے اس ملک میں عدم رواداری اور انتہا پسندی میں اضافے کی جو نشاندہی ہوئی ہے وہ مغربی ممالک خاص طور سے امریکا کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ کے کارکن اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سرگرم ذولحاج منان کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ القاعدہ کی جنوبی ایشیا کی ایک شاخ نے قبول کی ہے۔ القاعدہ کے اس دعوے کی گرچہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم اس سے بین الاقوامی امنگوں کے حامل مقامی مسلم انتہا پسندوں کو بنگلہ دیش جیسے سیاسی بحران کے شکار ملک میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ ملک ایک عرصے سے حکومتی پارٹی اور اپوزیشن کے مابین سیاسی رسہ کشی کا میدان بنا ہوا ہے۔امریکا کے ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلینکن نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ ڈھاکا حکومت چاہے سیکولر بلاگرز اور دیگر افراد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا ذمہ دار چاہے جس حد تک بھی اپوزیشن کو ٹھہرائے، ایسے ثبوت موجود ہیں کہ انتہا پسند گروپ چاہے وہ مقامی ہوں یا یہ آئی ایس یا القاعدہ سے منسلک ہوں، یہی عناصر ملک میں سیکولر اور دیگر موقف رکھنے والوں کے قتل کے پیچھے ہیں۔انٹونی بلینکن نے امریکی ہاؤس آف فارن آفیئیرز کمیٹی سے اپنے خطاب میں کہاکہ ان واقعات نے ہمارے ذہنوں میں آئی ایس یا داعش کی بنگلہ دیش میں پائی جانے والی جڑوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یہ وہ آخری چیز ہو گی جو ہم چاہیں گے۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ خطرات سے دوچار چند بنگلہ دیشیوں کو پناہ فراہم کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ واشنگٹن جو دنیا بھر میں اسلامک اسٹیٹ کی بپا کی ہوئی دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں مصروف ہے، اس بارے میں فکر مند ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ملک، جس میں سیکولرازم، آزادی رائے اور کرسچنوں اور ہندوؤں جیسی مذہبی اقلیتوں کا احترام پایا جاتا ہے، میں مسلم انتہا پسندی کی جڑیں مضبوط ہو گئیں تو یہ تمام خطے کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…