جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں سیاسی پناہ کے نئے قوانین متعارف

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

ویانا(نیوزڈیسک)آسٹرین پارلیمان نے رائے شماری کے ذریعے ملک میں سیاسی پناہ کے نئے سخت ترین قوانین منظور کر لئے۔ نئے قوانین کے تحت آسٹریا میں سیاسی پناہ کی زیادہ تر درخواستیں مسترد کی جا سکیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق انتہائی متنازعہ قرار دیے جانیوالے ان نئے قوانین کو آسٹرین پارلیمان میں 67 کے مقابلے میں 98 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ نئے قوانین کے تحت ویانا حکومت پناہ گزینوں کے بحران کو بنیاد بنا کر ملک میں ایمرجنسی تک نافذ کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہو گا کہ وہ پناہ کی تلاش میں آسٹریا کی ریاستی حدود میں داخلے کے خواہش مند تارکین وطن کو سرحد پر سے ہی واپس بھیج دے۔یورپی یونین کے کسی بھی دوسرے رکن ملک میں سیاسی پناہ کے مروجہ قوانین سے کہیں زیادہ سخت ان نئے قوانین کے تحت اس ملک میں جمع کرائی گئی پناہ کی زیادہ تر درخواستیں رد کی جا سکیں گی۔ ان قوانین کا اطلاق خانہ جنگی کے شکار ملک شام اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن پر بھی ہو گا۔آسٹریا میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف منظور کیے گئے ان نئے قوانین پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں انسانی حقوق کے عالمی کنوینشن کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اس کے برعکس آسٹریا کے وزیر داخلہ وولف گانگ سوبوتکا کا ان قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چوں کہ یورپی یونین کے کئی دیگر رکن ممالک تارکین وطن کی تعداد میں کمی لانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر پائے، اس لیے آسٹریا کے پاس ایسے قوانین متعارف کرانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم سارا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتے۔آسٹریا میں گزشتہ برس 90 ہزار سے زائد تارکین وطن نے پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ علاوہ ازیں مغربی اور شمالی یورپ پہنچنے والے گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن آسٹریا ہی کی حدود سے گزر کر ان یورپی ممالک میں پہنچے تھے۔نئے قوانین کے مطابق مہاجرین کے بحران کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ آسٹریا کی حدود میں داخل ہونے اور پناہ کی درخواست دینے کا حق صرف ان تارکین وطن کو دیا جائے گا جن کی جانوں کو آسٹریا کے پڑوسی ممالک میں خطرہ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…