ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

میر ی خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہو گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اور ہوائی

datetime 28  اپریل‬‮  2016 |

واشنگٹن ( نیوزڈیسک )امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ شمال مشرقی ریاستوں میں کامیابی کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہو ئے کہا ہے کہ انکی خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہو گا ۔واشنگٹن میں بین الاقوامی امور پر اپنی پہلی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں’سب سے پہلے امریکہ‘ کو اولین ترجیح دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر سے پہلے کہا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کی تفصیلات’ٹرمپ ڈاکٹرائن‘نہیں ہو گی اور اگر وہ منتخب ہو گے تو اس میں تبدیلی کے لیے کچھ لچک رکھیں گے۔ٹرمپ کی تقریر میں زیادہ زور اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر تھا جسے انھوں نے’ کمزور، مبہم اور بے ترتیب‘ قرار دیتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ وہ اسے تبدیل کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے بارے میں کہا ہے کہ’ ان کے دن پورے ہو چکے ہیں، میں ان کو نہیں بتاو¿ں گا کہ یہ کب ہوئے اور کس طرح ہوئے۔اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی تیل تک رسائی کو ختم کر کے اسے کمزور کر دیں گے اور وہ ان کے خلاف تحقیقات کے لیے واٹر بورڈنگ سمیت دیگر طاقتور طریقے استعمال کرنے کے حق میں ہیں تاہم بدھ کی تقریر میں انھوں نے ان تجاویز پر بات نہیں کی۔تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کے پھیلاو¿ کو روکنا ہے اور درحقیقت یہ دنیا کا بھی ہدف ہو گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادی کے ساتھ زیادہ قریبی کام کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو میں موجود امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ نئی بات چیت کی جائے گی تاکہ اس تنظیم کے ڈھانچے کو نئی شکل دی جا سکے اور اس میں امریکی مالی وسائل کا توازن قائم کرنے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔اس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ بھی بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اسلامی انتہا پسندی کے بارے میں اتفاق رائے قائم ہو سکے۔چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قوت کا احترام کریں اور انھیں امریکی سے معاشی فوائد لینے دیں اور وہ یہ کر رہا ہے اور ہم ان کا تمام احترام کھو رہے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق وہ چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنا چاہیں گے لیکن یہ کیسے کیا جائے گا اس کے بارے میں نہیں بتایا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکہ جن ممالک کا دفاع کرتا ہے انھیں اس دفاع کی قیمت ادا کرنا ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ کو تیار ہونا ہو گا کہ یہ ممالک اپنا دفاع خود کریں۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہے۔ٹرمپ نے گذشتہ ماہ نیویارک ٹائمز اخبار سے بات کرتے ہوئے جاپان کے بارے میں کہا تھا کہ اگر ہمارے پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ہمارے دفاع کے لیے نہیں آئیں گے اور اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں مکمل طور پر ان کا دفاع کرنا ہو گا اور یہ ہی اصل مسئلہ ہے۔خیال رہے کہ بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیٹیکٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، پینسلوینیا اور روڈز آئی لینڈ میں کامیابی کے بعد خود کو ریپبلکن پارٹی کا ’ممکنہ نامزد صدارتی امیدوار‘ کہا ہے۔جولائی میں پارٹی کے قومی کنونشن سے قبل یہ نتائج انھیں صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے مطلوبہ تعداد کے قریب لے آئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…