واشنگٹن ( نیوزڈیسک )امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ شمال مشرقی ریاستوں میں کامیابی کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہو ئے کہا ہے کہ انکی خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہو گا ۔واشنگٹن میں بین الاقوامی امور پر اپنی پہلی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں’سب سے پہلے امریکہ‘ کو اولین ترجیح دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر سے پہلے کہا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کی تفصیلات’ٹرمپ ڈاکٹرائن‘نہیں ہو گی اور اگر وہ منتخب ہو گے تو اس میں تبدیلی کے لیے کچھ لچک رکھیں گے۔ٹرمپ کی تقریر میں زیادہ زور اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر تھا جسے انھوں نے’ کمزور، مبہم اور بے ترتیب‘ قرار دیتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ وہ اسے تبدیل کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے بارے میں کہا ہے کہ’ ان کے دن پورے ہو چکے ہیں، میں ان کو نہیں بتاو¿ں گا کہ یہ کب ہوئے اور کس طرح ہوئے۔اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی تیل تک رسائی کو ختم کر کے اسے کمزور کر دیں گے اور وہ ان کے خلاف تحقیقات کے لیے واٹر بورڈنگ سمیت دیگر طاقتور طریقے استعمال کرنے کے حق میں ہیں تاہم بدھ کی تقریر میں انھوں نے ان تجاویز پر بات نہیں کی۔تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کے پھیلاو¿ کو روکنا ہے اور درحقیقت یہ دنیا کا بھی ہدف ہو گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادی کے ساتھ زیادہ قریبی کام کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو میں موجود امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ نئی بات چیت کی جائے گی تاکہ اس تنظیم کے ڈھانچے کو نئی شکل دی جا سکے اور اس میں امریکی مالی وسائل کا توازن قائم کرنے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔اس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ بھی بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اسلامی انتہا پسندی کے بارے میں اتفاق رائے قائم ہو سکے۔چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قوت کا احترام کریں اور انھیں امریکی سے معاشی فوائد لینے دیں اور وہ یہ کر رہا ہے اور ہم ان کا تمام احترام کھو رہے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق وہ چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنا چاہیں گے لیکن یہ کیسے کیا جائے گا اس کے بارے میں نہیں بتایا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکہ جن ممالک کا دفاع کرتا ہے انھیں اس دفاع کی قیمت ادا کرنا ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ کو تیار ہونا ہو گا کہ یہ ممالک اپنا دفاع خود کریں۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہے۔ٹرمپ نے گذشتہ ماہ نیویارک ٹائمز اخبار سے بات کرتے ہوئے جاپان کے بارے میں کہا تھا کہ اگر ہمارے پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ہمارے دفاع کے لیے نہیں آئیں گے اور اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں مکمل طور پر ان کا دفاع کرنا ہو گا اور یہ ہی اصل مسئلہ ہے۔خیال رہے کہ بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیٹیکٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، پینسلوینیا اور روڈز آئی لینڈ میں کامیابی کے بعد خود کو ریپبلکن پارٹی کا ’ممکنہ نامزد صدارتی امیدوار‘ کہا ہے۔جولائی میں پارٹی کے قومی کنونشن سے قبل یہ نتائج انھیں صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے مطلوبہ تعداد کے قریب لے آئے ہیں۔
میر ی خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہو گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اور ہوائی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئی سٹل لو یو
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی
-
خلائی مخلوق جلد زمین پر اترے گی؟ امریکی ایف بی آئی کی خفیہ دستاویز نے تہلکہ مچا دیا
-
خاتون نے شوہر سے ملکر عاشق کو ہلاک کر دیا، لاش ڈرم میں ڈال کر نالے میں پھینک دی
-
14سالہ لڑکے کو دوست نے زیادتی کے بعد ہلاک کردیا
-
منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی
-
چین کے سرکاری عشائیے میں ایلون مسک کی دلچسپ حرکات وائرل
-
پنکی کے انکشافات پر ملک گیر کریک ڈان، افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار
-
عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کے خلاف پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ
-
حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑی کمی کردی، کمرشل جہازوں کے کرایوں میں کمی کا امکان
-
ایک کروڑ سے زائد مالیت کے 137 موبائل فون کی اسمگلنگ ناکام
-
کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کا کیس، کے الیکٹرک کو 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
-
خاتون ٹیچر کو اے آئی سے تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا سکیورٹی گارڈ گرفتار



















































