الریاض(نیوزڈیسک) خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ایوان ہائے صنعت وتجارت کے جنرل سیکرٹری عبدالرحیمم نقی نے کہا ہے تنظیم کے تمام چھ رکن ممالک کو ملانے والی ریلوے لائن کے منصوبے سے 80 ہزار بالواسطہ اور بلاواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔عبدالرحیم نقی نے سعودی میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ تمام رکن ممالک کے لئے تزویراتی اہمیت کا حامل اور اہم منصوبہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں خلیجی ممالک کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور مختلف شعبہ جات میں مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔خلیجی ریاست کویت کے کویت شہر سے شروع ہونے والا یہ ٹرین کا راستہ اومان کے دارالحکومت مسقط میں جا کر ختم ہوگا اور اس ریلوے لائن کے 2117 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو بچھانے کا مکمل خرچ 15?4 ارب ڈالر ہے جس میں دو پلوں کی تعمیر شامل ہے۔اس ریلوے لائن پر چلنے والی مسافر ٹرین 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گی اور مال بردار ٹرینیں 80 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔نقی نے اس موقع پر خلیجی ٹرین کو مصر اور سعودی عرب کے درمیان جلد ہی تعمیر ہونے والے شاہ سلمان پل کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں منصوبوں سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کی رفتار میں تیزی آئے گی۔سعودی عرب کی ریلوے تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ خلیج تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی حکومتوں نے اس ریلوے منصوبے کو اولین ترجیح کے طور پر رکھا ہے۔عبدالرحیم نقی کا مزید کہنا تھا کہ معاشی اور تکنیکی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لادیا گیا ہے تاکہ وہ ریسرچ اور منصوبے کے ڈیزائن پر کام شروع کردیں۔ خلیجی ممالک نے بین الاقوامی مشاورتی فرمز کی خدمات حاصل کر لی ہیں تاکہ ان منصوبوں کے مختلف مندرجات کو گہرائی میں پرکھا جاسکے۔نقی کا کہنا تھا کہ اس ریسرچ میں پراجیکٹ کے روڈ میپ، فزیبلٹی سے متعلق تحقیق، مختلف فیز میں منصوبے کا ٹائم فریم، ریلوے روٹس کی نشاندہی اور انجینئرنگ ڈیزائن کی تیاری شامل ہے۔اس ریلوے روٹ کا آغاز کویت شہر سے ہوگا اور یہ دمام کے پاس سے ہوتا ہوا ایک نئے پل کے ذریعے سے بحرین پہنچے گا۔ دمام سے اس روٹ کو سلوا بارڈر سے قطر سے ملایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس ریلوے لائن کے لئے ایک نئے قطر بحرین پل کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔اس کے بعد یہ ریلوے لائن سعودی عرب سے ہوتی ہوئی البطحا بارڈر سے متحدہ عرب امارات میں داخل ہو جائے گی۔ اس کے بعد سھار سے ہوتے ہوئے یہ لائن اومان میں داخل ہو کر مسقط میں ختم ہوجائے گی۔ اس ریلوے لائن کی کل لمبائی 2117 کلومیٹر ہے جس میں سے 663 کلومیٹر صرف سعودی عرب میں موجود ہوگی۔
80ہزار ملازمتیں،خلیج ریلوے منصوبہ ،خلیج تعاون کونسل نے زبردست اعلان کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور آزاد کشمیر میں بارشوں کی پیشگوئی، ادارے الرٹ
-
سعودی عرب کے ورک ویزے کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار ہوجائیں !
-
پنجاب حکومت نے گندم کی ریلیز پرائس مقرر کر دی



















































