جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

باراک اوباما سعودی عرب کا دورہ کریں گے،امریکا

datetime 17  اپریل‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ ان کا ملک نیوکلیئر معاہدے پر ایرانی عمل درآمد کی رفتار کا جائزہ لے رہا ہے۔واشنگٹن امید رکھتا ہے کہ تہران خلیج میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کرنے والی معاندانہ کارروائیاں بند کر دے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے امریکی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی ایرانی اثر ونفوذ روکنے کے لئے وضع کردہ امریکی نظام کا حصہ ہے۔امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کے سرکش گروپ کو نیست ونابود کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ معاملہ یہاں سے ہی شروع ہوا۔اْنھوں نے داعش کے شدت پسند ٹولے کو سرطان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک باصلاحیت مقامی فورس موجود ہو جو دولت اسلامیہ کی شکست کے بعد اْس کی جگہ لے، تاکہ شدت پسندوں کو زیر رکھا جا سکے۔اس سے قبل ایش کارٹر خلیج کے دورے کے آغاز پر ابوظہبی پہنچے ہیں۔ اس دورے کا اختتام ان کی ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ہو گا۔ اس دورے کا ایک مقصد یہ ہے کہ خلیج کے ممالک عراق کی مدد کریں ایسے میں جب وہ داعش کے خلاف صف آرا ہے۔کارٹر نے الدفرہ فضائی اڈے کا دورہ کیا جہاں متحدہ عرب امارات میں تعینات امریکی سفیر باربرا لیف؛ دفاعی اتاشی برگیڈیئر جنرل جو رینک اور ونگ وائس کمانڈر کرنل جانی بارنیس نے اْنھیں بریفنگ دی۔امریکی قیادت میں کام کرنے والا اتحاد داعش کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائی کے لیے اس فضائی اڈے کو استعمال کرتا ہے، ساتھ ہی یہاں سے انٹیلی جنس، جاسوسی اور نگرانی کے مشن کیے جاتے ہیں۔دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران، ایش کارٹر سعودی عرب کے دارالحکومت، ریاض میں خلیج تعاون کونسل اور دفاعی قائدین سے گفتگو کریں گے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران، کارٹر نے بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما کی ریاض میں آمد متوقع ہے، جہاں وہ خلیج کے پارٹنرز کے ساتھ گفتگو میں عراقی علاقوں کی تعمیر نو کے لیے عطیات کے لیے کہیں گے، جو علاقے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں تباہ ہوئے ہیں۔ کارٹر کے بقول یہ عالمی کاوش ہے جس میں کئی ملک عطیات دے سکتے ہیں۔وزیر دفاع داعش کے خلاف جاری جنگ کو مزید تیز کرنے کے سلسلے میں بھی خلیج تعاون تنظیم کے رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اْن کے الفاظ میں ہم فوجی کارروائی کو ممکنہ حد تک تیز کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…