جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دئیے

datetime 7  اپریل‬‮  2016 |

برسلز(نیوزڈیسک)یورپی کمیشن نے یورپ بھر میں سیاسی پناہ کے نئے اور متفقہ قوانین بنانے کی تجاویز پیش کر دیں تاہم کچھ یورپی ممالک نے ان تجاویز پر فوری تنقید بھی شروع کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی جانب سے پیش کردہ ’ڈبلن قوانین‘ کے نام سے جانے جانے والے سیاسی پناہ کے موجودہ یورپی قوانین میں ترامیم کے خلاف چیک جمہوریہ کا فوری رد عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس معاملے پر یونین کی رکن ریاستوں میں اختلاف رائے کتنا زیادہ ہے۔ڈبلن قوانین کے مطابق یورپی یونین کی حدود میں داخل ہونے والے پناہ کے متلاشی افراد صرف اسی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں جہاں سے وہ یونین کی حدود میں داخل ہوئے ہوں۔ ان قوانین کی وجہ سے غیر یورپی تارکین وطن کا سب سے زیادہ بوجھ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر واقع اٹلی اور یونان جیسے ممالک کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس قانون کو منصفانہ اور قابل عمل بنانے کے لیے یورپی کمیشن نے دو تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز کے مطابق تارکین وطن کو یونان اور اٹلی جیسے ممالک سے نکال کر ایک کوٹے کے تحت دیگر یورپی ممالک منتقل کر دیا جائے گا۔ عارضی طور پر یورپ میں فی الوقت یہی قانون نافذ ہے تاہم اس پر عمل درآمد کی رفتار نہایت سست رہی ہے۔دوسری تجویز میں کہا گیا ہے کہ تارکین وطن چاہے کسی بھی یورپی ملک میں پہنچیں، انہیں لازمی اور مستقل نظام کے ذریعے یونین کے ممالک میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمیتریس اورامْوپولوس کا کہنا تھاکہ دونوں صورتوں میں تارکین وطن کو یونین کے رکن ممالک میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ہمیں اپنے نظام میں ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم کے لیے یکجہتی پیدا کرنا ہو گی۔علاوہ ازیں کمیشن کی ایک تجویز کے مطابق آئندہ یورپی یونین کو بحران زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو براہِ راست یورپ لا کر انہیں پناہ دینی چاہیے تاکہ وہ خطرناک راستے اختیار کرتے ہوئے خود یورپ کا رخ نہ کریں۔ اس منصوبے پر بھی یونین کی رکن ریاستوں کی جانب سے ملا جلا ردِ عمل دیکھا گیا ہے۔یورپی کمیشن کی ایک اور تجویز میں کہا گیا ہے کہ یونین کے باہر سے یہاں آنے والے لوگوں کی یورپ میں بے قاعدہ نقل و حرکت روکنے کے لیے اسے قانونی طور پر جرم قرار دیا جائے۔چیک جمہوریہ کے وزیر داخلہ نے ان دونوں یورپی تجاویز پر فوری ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھاکہ سیاسی پناہ کے یورپی قوانین میں اصلاحات کے لیے پھر تارکین وطن کی لازمی تقسیم کی بات کی گئی ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہم یہ قبول نہیں کریں گے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…