اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسلامی ملک کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاہدہ

datetime 6  اپریل‬‮  2016 |

تہران(نیوز ڈیسک)ایران کے ایک اخبارنے انکشاف کیا ہے کہ جون 2015 میں تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان دستخط کیے جانے والے جامع معاہدے کے پیچھے دیگر معاہدے بھی ہوں گے جن میں ایران کا اسرائیل کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ملک میں سخت گیر بنیاد پرست گروپ کے نزدیک سمجھے جانے والے اخبار نے بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مخصوص حلقے نیوکلیئر معاہدے کے بعد کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں ایران کا اسرائیل کو تسلیم کرنا، ایران میں اعلی ترین اختیارات کی حامل “شوری نگہبان” کو تحلیل کر دینا اور ملک میں سیاسی افق سے خمینی کے اسلوب کو ختم کر دینا شامل ہیں۔اخبار نے ضمنی طور پر ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کو ان کے حالیہ بیان کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس بیان میں رفسنجانی کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات کا دور ہے نہ کہ میزائلوں کا۔ اخبار نے رفسنجانی کے بیان پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ آئندہ معاہدوں میں ایران کے میزائل پروگرام کو ہدف بنایا جائے گا کیوں کہ دور تو مذاکرات کا ہے نہ کہ میزائلوں کا۔اخبار کے مطابق خطے میں حلیفوں کی حفاظت یعنی مزاحمت کے محور میں ایران کا کردار بھی ختم ہو جائے گا۔ اخبار کے مطابق تیسرے معاہدے میں لبنان کی حزب اللہ، فلسطین کی حماس اور یمن کی انصار اللہ تنظیموں کے علاوہ بشار الاسد کا بھی خاتمہ عمل میں آئے گا کیوں کہ یہ سب شدت پسند اور دہشت گرد ہیں اور عالمی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔اخبارکے مطابق چوتھے معاہدے میں ایران میں سیاسی فیصلوں کے میدان سے خمینی کے افکار اور اسلامی انقلاب کے اسلوب اور رجحان کو ختم کر کے انہیں میوزیم کی زینت بنا دیا جائے گا۔ آئین میں تبدیلی کے ساتھ ولایت فقیہہ کی جگہ رہ نما شوری لے گی۔اخبار نے روحانی کی حکومت اور اس کے اصلاح پسند حلیفوں پر بھی کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ اس لیے کہ وہ نیوکلیئر معاہدے کے بعد مغرب کے ساتھ معمول کے تعلقات کی ترویج کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ تمام معاہدے امریکی وزارت خارجہ کے حلقوں میں تیار کیے گئے ہیں اور ان پر عمل درامد سے قبل سرکاری ملاقاتوں، مذاکرات اور فریقی کے دستخط کا انتظار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…