اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

بڑے ملک کی سعودی عرب کو سنگین دھمکی، جنگ کا خطرہ، حالات انتہائی کشیدہ

datetime 6  اپریل‬‮  2016 |

دبئی(نیوزڈیسک)ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے خلیجی ممالک بالخصوص مملکت سعودی عرب کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایک جانب ایرانیوں کی طرف سے امن اور دوستی کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے اور دوسری جانب صبح و شام خلیجی ملکوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کے مطابق ایرانی پاسداران_انقلاب کے سربراہ جنرل محمدعلی جعفری نے اپنے ایک تازہ بیان میں بالعموم تمام خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور بحرین کو سنگین نتایج کی دھمکیاں دیں۔ایرانی فوجی عہدیدار کی جانب سے سعودی عرب اور بحرین کو دھمکیاں ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب یمن میں ایران نوازحوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں اہم پیش رفت کی خبریں آ رہی ہیں۔ایرانی خبر رساں ایجنسی”تسنیم“ کی رپورٹ کے مطابق جنرل محمد علی جعفری نے خلیجی ممالک کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر کیا۔ ایران میں نئے سال کے آ غاز کے بعد پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل جعفری نے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے، معیشت میں سادگی اختیار کرنے اور ایران کے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پربھی تفصیلی بات چیت کی۔جنرل جعفری نے اپنی تقریر میں ایران کا میزائل پروگرام بدستور جاری رکھنے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میزائل پروگرام سے امریکی خوف زدہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں مگر تہران پرجنگ مسلط کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کی صورت میں ہم ایسے ہی لڑیں گے جیسے عراق کے ساتھ آٹھ سال تک لڑتے رہے ہیں۔ عراق کی طرح امریکیوں کو بھی جنگ کی صورت میں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کے چیف جنرل جعفری نے اپنی تقریر میں حسب معمول تمام خلیجی ملکوں خاص طورپر سعودی عرب اور بحرین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ملک بحرین سے خطرہ ہے اور ایران کو اس نوعیت کے خطرات کے تدارک کاحق حاصل ہے۔انہوں نے عرب ممالک پر اسرائیل کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایران کی تلواریں عرب ممالک سے انتقام لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔جنرل محمد علی جعفری نے شام میں صدر بشارالاسد، لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی بھی کھل کرحمایت کی اور ان کی ہرممکن مدد کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن شام کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ تاہم ان کا ملک برطانیہ، امریکا اور صہیونیوں کی گٹھ جوڑ سے تیار کی جانے والی سازش کو کامیاب نہیں ہونے
دے گا۔بہ ظاہرجنرل جعفری نے فلسطینیوں کی دلجوئی کے لیے ان کی بھی حمایت کی مگر ساتھ ہی ساتھ ساتھ انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…