اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

طالبان کا افغان حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا اعلان

datetime 23  مارچ‬‮  2016 |

کابل(نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں انکار کے بعد طالبان کے اِس اعلان کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔جرمن ریڈیو کے مطابق بدھ کے روز افغانستان میں مسلح تحریک چلانے والی عسکریت پسند تنظیم طالبان نے اعلان کیا کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر راضی ہے۔ اِس مثبت پیش رفت کو افغان منظر پر اہم خیال کیا گیا ہے کیونکہ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کا عمل استوار نہیں ہو سکا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہونے پر حکومت اور طالبان مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہو جائیں۔طالبان کے قیدیوں پر تبادلے کے معاملے پر رضامندی سے قبل وہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے حکومتی جیلوں میں مقید عسکریت پسندوں کی رہائی اور غیرملکی افواج کے انخلاءکا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ا ±ن کے کسی سابقہ اعلان میں قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اسی تبدیلی کو ماہرین ایک اہم پیش رفت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس دوران طالبان نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ’دشمن‘ قوت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے اور یہ کمیشن حکومتی نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کر کے رہائی کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ایک بیان میں طالبان نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے کمیشن کی تشکیل میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ تبادلے کے عمل میں خصوصی قوانین کا اطلاق کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے خصوصی قوانین کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے کہ یہ کس نوعیت کے ہوں گے اور کن قیدیوں پر ان کا اطلاق کیا جائے گا۔ دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ردمانش نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ اگر طالبان کی قید سے قیدیوں کو رہا کروانا پڑا تو اِس کے لیے خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا لیکن سرِدست طالبان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ کابل حکومت کی اعلیٰ امن کونسل کے ایک رکن شفیع اللہ شافی نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکراتی عمل پر اثرانداز ہونے والے طالبان قیدیوں کی رہائی کی کوشش کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…