جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

سعودی حکومت نے پاکستان سے حج پالیسی2016 کی رپورٹ مانگ لی

datetime 17  مارچ‬‮  2016 |

فیصل آباد /اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سعودی حکومت کی وزات حج امور نے پاکستان کی وزات حج کو کہا ہے کہ وہ حج پالیسی 2016 ءکا جلد از جلد فیصلہ کر کے حاجیوں کی تعداد اور پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کے حج کوٹہ کے بارے میں انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ سعودی حکومت آئندہ حج 2016 ءکے انتظامات مکمل کر سکے ۔ آن لائن کے مطابق پاکستان کے وزات حج امور تا حال نئی حج پالیسی کا کوئی واضح فیصلہ نہیں کر سکی کیونکہ حج پرائیوٹ ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن نے عدالت عالیہ سندھ سے حج کوٹہ میں کمی کے بارے میں حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے جس کی سماعت 30 اپریل مقرر ہے جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی اموراور سینٹ کی قا ئمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے اپنے الگ الگ اجلاس میں نئی حج پالیسی کے بارے میں رپورٹ تیار کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور محمد یوسف اور سیکرٹری مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ حج 2016 ءکی پالیسی کی حتمی منظوری سے قبل انہیں تحریری طور پر آگاہ کیا جائے ۔ آن لائن کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حج پالیسی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے نہ صرف اس سال حج پر جانے والے افراد پریشان ہیں بلکہ حج اور عمرہ پر جانے والے عازمین حج نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی نمایاں کمی کی وجہ سے حج کرایوں میں کمی کرتے ہوئے نئی حج پالیسی کا جلد از جلد اعلان کیا جائے تاکہ عازمین حج پالیسی کے تحت اپنی درخواستیں حج کیلئے جمع کرا سکیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے 7 اپریل تک سعودی حکومت کو نئی حج پالیسی 2016 ءمیں عازمین حج کی تعداد کے بارے میں آگاہ نہ کیا تو سعودی حکومت پاکستان کے عازمین حج کے کوٹہ میں نمایاں کمی کر دے گی ۔جس سے ہزاروں پاکستانی افراد عازمین حج کی سعادت سے محروم ہو جائیں گے ۔دریں اثنا حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ہوپ ) کے ریجنل چیئر مین حافظ شفیق کاشف نے سینٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کی مدد سے عازمین حج کو مناسب بجٹ میں حج پیکج ملیں گے اور موجودہ حج کمپنیوں کے کوٹے میں کمی نہ کرنے سے حج آرگنائزرز اور عازمین حج پر اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا لہذا ہوپ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…