پیا نگ یا نگ (نیوز دیسک)شمالی کوریا نے حرارت کی مدافعت کرنے والا ایسا مادہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کی بدولت جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل خلا سے دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر دوسرے براعظموں پر واقع اہداف کو بھی نشانہ بنا سکیں گے۔تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے شمالی کوریا کے اس دعوے پر شکوک ظاہر کیے ہیں۔شمالی کوریا کی جانب سے یہ دعویٰ اس اعلان کے چند دن بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اتنا چھوٹا جوہری بم بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے جو میزائل کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ کم جونگ ان کے حکم پر وی سی ایس 38803 نامی اس ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جس کے تحت میزائل ضروری مادے کے ساتھ زمین کی فضا میں پھر سے داخل ہوا۔اس سے قبل شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان نے کہا تھا کہ ان کا ملک جلد ہی جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائلوں کے مزید تجربے کرے گا۔سرکاری میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ان تجربوں سے شمالی کوریا کی ’جوہری ہتھیار سے حملے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔‘رواں سال کے اوائل میں جوہری اور میزائل کے تجربات کے نتیجے میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد شمالی کوریا نے لگاتار جنگجویانہ دھمکیاں دی ہیں۔ہر چند کہ شمالی کوریا کو جوہری صلاحیت والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے تاہم بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔گذشتہ ہفتے کم جونگ ان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سائنسدانوں نے اتنے چھوٹے جوہری ہتھیار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو کہ بیلسٹک میزائل پر نصب ہو سکتے ہیں۔اس دعوے کی تصدیق سرکاری میڈیا نے ایک تصویر کے ذریعے کی جس میں ملک کے رہنما کو ایک ایسی چیز کے ساتھ دکھایا گیا ہے جسے وہ چھوٹا جوہری ہتھیار کہتے ہیں۔جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھیں اس دعوے کی صداقت پر یقین نہیں اور ’شمال (کوریا) ابھی تک چھوٹے جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکا ہے۔‘کے سی این اے نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان کا تازہ بیان اس وقت آیا جب وہ جوہری ہتھیار سے لیس بیلسٹک میزائل کے فضا میں داخل ہونے کی ٹیکنالوجی کا معائنہ کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’جوہری تجربات جلد ہی کیے جائیں گے‘ لیکن کوئی مدت یا وقت نہیں بتایا گیا۔جنوری میں شمالی کوریا نے چوتھی بار جوہری تجربہ کیا تھا اور اس کے مطابق یہ انتہائی طاقتور ہائیڈروجن بم تھا۔اس کے بعد فروری میں اس نے ممنوعہ میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے سیٹلائٹ لانچ کیا اور یہ دونوں اقدامات اقوام متحدہ کی موجودہ پابندیوں کی خلاف ورزی تھے۔گذشتہ ہفتے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی افواج مشترکہ جنگی مشقوں میں بھی مصروف ہیں۔ یہ دونوں ممالک کی اب تک کی سب سے بڑی مشترکہ جنگی مشق ہے۔رواں سال پیانگ یانگ نے ان مشقوں پر امریکہ اور جنوبی کوریا کے خلاف ’انصاف کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر حملے‘ کی دھمکی بھی دی ہے اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ دھمکی مزید کسی جوہری تجربے کی تیاری ہے۔
شمالی کوریا کا ’جوہری ہتھیاروں کے تجربات‘ کا اعلان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
محمد عباس کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ بابر اعظم نے وجہ بتادی
-
اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی، ایس ایچ او سمیت تھانے کا پورا عملہ معطل



















































