بیجنگ(نیو زڈیسک ) چین پاکستان اقتصادی راہداری اور ون روڈ اور ون بیلٹ منصوبوں کو قومی عوامی کانگریس ( این پی سی ) کی مکمل حمایت حاصل ہے ،ارکان پارلیمنٹ نے این پی سی کے جاری اجلاس میں شرکت کے دوران ان تقدیر بدلنے وا لے منصوبوں جن کا پاکستان اور دوسرے علاقائی ممالک کے ساتھ چین کے اقتصادی مراسم کو مستحکم کرنے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ،پاکستان اس قسم کے منصوبوں سے بنیاد ی طوپر فائدہ اٹھانے والا ملک ہے کے حق میں اپنا وزن ڈالا ، شنگھائی ڈیلی میں گذشہ روز شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پر خوش اسلوبی سے عملدرآمد کے نتیجے میں توقع ہے کہ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی گنجائش میں 25000میگاواٹ سے زائد بجلی کا اضافہ ہو گا ، پاکستان جو کہ قدیم تجارتی شاہراہ کے ساتھ ایک وسطی ایشیائی ملک ہے کو بجلی کی قلت کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، موسم گرما کے دوران اس کے دارالحکومت شہر اسلام آباد تک کو روزانہ 12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، توقع کی جاتی ہے کہ سی پی ای سی اس قلت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ملک کے سب سے بڑے قانون سازادارے 12ویں این پی سی اور ملک کے سب سے بڑے سیاسی مشاورتی ادارے چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس ( سی پی پی سی سی ) کی12ویں کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں چین کے 13ویں پنجسالہ منصوبے کی توسیع کی گئی جس میں بحث و تمحیص میں اہم حصے کے طورپر چین کی مزید اقتصادی تشکیل نو پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ سی پی ای سی اس منصوبے کا حصہ ہے جس سے چین کی عالمی مربوطیت کا منصوبہ عمل میں آئے گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے آئندہ پانچ سالوں میں اپنے سفارتی ایجنڈے کے طورپر جو کہ چین پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست موضوع ہیں ، دنیا سے ملوث ہونے کو کھولنے کی بلند ترین سطح کو ترجیح دینے کا عزم کر رکھا ہے ، عوامی نمائندے اس قسم کے عظیم پروگراموں پر مزید عملدرآمد کیلئے غور و خوض کریں گے تا کہ وہ دوسرے ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے ساتھ چین کی دہائیوں طویل اقتصادی ترقی کے حل سے بہتر طورپر مستفید ہو سکیں ، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ جس کا نا م عالمی طورپر مشہور شاہرائے ریشم جو کبھی قدیم وقتوں میں ایشیا ، یورپ اور افریقہ کو آپس میں ملاتی تھی لیا گیا ہے کا مقصد بری اور بحری راستے کے ذریعے علاقوں کے درمیان مربوطیت میں اضافہ کرنا اور ایشیا اور افریقہ میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امسال کے اجتماعات ایسے موقع پر جب کہ دنیا کمزور بحالی کے پیش نظر جدوجہد کررہی ہے ، عالمی مبصرین کو چین کی مستقبل کی پالیسیوں میں جھانکنے کی قیمتی کھڑکی ہیں لہذا توقع ہے کہ ان اجتماعات پر اندرون بیرون ملک زیادہ توجہ مبذول ہو گی ، چین کی اعلیٰ قیادت نے فروری کے آخر میں اعلان کیا کہ چین سپلائی سائیڈ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور سبز معیشت کو تیز تر کرے گا اور ملکی مانگ کی صلاحیت کو بروئے کار لائے گا ، دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اب اپنے دارومدار کو سرمایہ کاری اور مینو فیکچرنگ سے ملکی مانگ اور سروس انڈسٹری کی منتقل کررہی ہے ۔
چین پاک راہداری منصوبے کو چینی پارلیمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے ، شنگھائی ڈیلی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئی سٹل لو یو
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
نادرا نے بائیو میٹرک تصدیق کا نیا نظام متعارف کرا دیا
-
ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی



















































