جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

چین پاک راہداری منصوبے کو چینی پارلیمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے ، شنگھائی ڈیلی

datetime 14  مارچ‬‮  2016 |

بیجنگ(نیو زڈیسک ) چین پاکستان اقتصادی راہداری اور ون روڈ اور ون بیلٹ منصوبوں کو قومی عوامی کانگریس ( این پی سی ) کی مکمل حمایت حاصل ہے ،ارکان پارلیمنٹ نے این پی سی کے جاری اجلاس میں شرکت کے دوران ان تقدیر بدلنے وا لے منصوبوں جن کا پاکستان اور دوسرے علاقائی ممالک کے ساتھ چین کے اقتصادی مراسم کو مستحکم کرنے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ،پاکستان اس قسم کے منصوبوں سے بنیاد ی طوپر فائدہ اٹھانے والا ملک ہے کے حق میں اپنا وزن ڈالا ، شنگھائی ڈیلی میں گذشہ روز شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پر خوش اسلوبی سے عملدرآمد کے نتیجے میں توقع ہے کہ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی گنجائش میں 25000میگاواٹ سے زائد بجلی کا اضافہ ہو گا ، پاکستان جو کہ قدیم تجارتی شاہراہ کے ساتھ ایک وسطی ایشیائی ملک ہے کو بجلی کی قلت کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، موسم گرما کے دوران اس کے دارالحکومت شہر اسلام آباد تک کو روزانہ 12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، توقع کی جاتی ہے کہ سی پی ای سی اس قلت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ملک کے سب سے بڑے قانون سازادارے 12ویں این پی سی اور ملک کے سب سے بڑے سیاسی مشاورتی ادارے چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس ( سی پی پی سی سی ) کی12ویں کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں چین کے 13ویں پنجسالہ منصوبے کی توسیع کی گئی جس میں بحث و تمحیص میں اہم حصے کے طورپر چین کی مزید اقتصادی تشکیل نو پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ سی پی ای سی اس منصوبے کا حصہ ہے جس سے چین کی عالمی مربوطیت کا منصوبہ عمل میں آئے گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے آئندہ پانچ سالوں میں اپنے سفارتی ایجنڈے کے طورپر جو کہ چین پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست موضوع ہیں ، دنیا سے ملوث ہونے کو کھولنے کی بلند ترین سطح کو ترجیح دینے کا عزم کر رکھا ہے ، عوامی نمائندے اس قسم کے عظیم پروگراموں پر مزید عملدرآمد کیلئے غور و خوض کریں گے تا کہ وہ دوسرے ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے ساتھ چین کی دہائیوں طویل اقتصادی ترقی کے حل سے بہتر طورپر مستفید ہو سکیں ، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ جس کا نا م عالمی طورپر مشہور شاہرائے ریشم جو کبھی قدیم وقتوں میں ایشیا ، یورپ اور افریقہ کو آپس میں ملاتی تھی لیا گیا ہے کا مقصد بری اور بحری راستے کے ذریعے علاقوں کے درمیان مربوطیت میں اضافہ کرنا اور ایشیا اور افریقہ میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امسال کے اجتماعات ایسے موقع پر جب کہ دنیا کمزور بحالی کے پیش نظر جدوجہد کررہی ہے ، عالمی مبصرین کو چین کی مستقبل کی پالیسیوں میں جھانکنے کی قیمتی کھڑکی ہیں لہذا توقع ہے کہ ان اجتماعات پر اندرون بیرون ملک زیادہ توجہ مبذول ہو گی ، چین کی اعلیٰ قیادت نے فروری کے آخر میں اعلان کیا کہ چین سپلائی سائیڈ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور سبز معیشت کو تیز تر کرے گا اور ملکی مانگ کی صلاحیت کو بروئے کار لائے گا ، دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اب اپنے دارومدار کو سرمایہ کاری اور مینو فیکچرنگ سے ملکی مانگ اور سروس انڈسٹری کی منتقل کررہی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…