برسلز(نیوز ڈیسک) سلووینیہ، سربیا اور کروشیا نے ویزے کے بغیر مغربی یورپ کی جانب سفر کرنے والے تارکین وطن کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کا اعلان کردیا گزشتہ برس گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن انہی ممالک سے گزر کر مغربی یورپ پہنچے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے تارکین وطن کے لیے عملی طور پر سرحدیں بند کرنے کے اعلان کے بعد یونان سے جرمنی، سویڈن اور دیگر مغربی یورپی ممالک کی جانب ہجرت کرنے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے اپنی منزل پر پہنچنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔سلووینیہ کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار کرنے کی اجازت صرف ان غیر ملکیوں کو دی جائے گی جو ’ملک میں داخل ہونے کی شرائط پر پورا اتریں گے‘۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پناہ کی متلاشیوں کو بھی ملکی حدود میں داخل ہونے کی اجازت انفرادی کیسوں کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور شینگن زون کے قوانین کے مطابق جائزہ لینے کے بعد دی جائے گی۔کروشیا، جو کہ یورپ میں آزادانہ نقل و حرکت کے علاقے یا شینگن زون کا حصہ نہیں ہے، نے بھی سلووینیہ کے اعلان کے بعد تارکین وطن کے لیے اپنی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔کروشیا کے وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ بظاہر یورپ نے مہاجرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ شینگن زون کی سرحد پر شینگن قوانین کا از سر نو نفاذ ہو گا۔ یورپ کی حدود اب مقدونیہ اور یونان کی سرحد سے شروع ہو رہی ہے۔ ہم ان فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔مقدونیہ اور یونان کے مابین متصل سرحد پہلے ہی بند کی جا چکی تھی تاہم ان ممالک کے اعلان کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقدونیہ بھی غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے تمام تارکین وطن کو اپنی حدود سے گزر کر آگے جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔ان ممالک کی جانب سے سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین معاہدہ طے پانے کے صرف ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ انقرہ اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترکی سے یونان آنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔یورپی یونین کے حکام نے اس ڈیل کو ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر ڑاں کلود ی ±نکر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ’کھیل بدلنے والا‘ اور ’قانونی طور پر جائز‘ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی شخص کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کر دیا جائے اور اس ضمن میں مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے والے بین الاقوامی قوانین کا خیال نہ رکھا جائے تو مجھے اس بات پر تشویش ہے۔
یورپ کی جانب ہجرت ختم،کئی ممالک نے سرحدیں بند کر دیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئی سٹل لو یو
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
نادرا نے بائیو میٹرک تصدیق کا نیا نظام متعارف کرا دیا
-
ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی



















































