جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

سعودی عرب کا ساتھ دینے کیلئے اہم ملک نے حامی بھرلی

datetime 14  فروری‬‮  2016 |

الریاض(نیوزڈیسک)سعودی عرب کے محکمہ دفاع کے مشیر جنرل احمد عسیری نے کہاہے کہ ترکی کے انجیرلیک فوجی اڈے پر سعودی فوج اور جنگی سامان پہنچانے کا مقصد عالمی اتحاد سے ذرا مختلف انداز میں داعش کے ٹھکانوں اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنا کرانہیں تباہ کرنا ہے، شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی”داعش“ کے خلاف جنگ کے لیے ترکی میں لائے گئے اسلحہ اور فوجیوں سے متعلق اہم تفصیلات جاری کی ہیں۔عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے جنرل احمد عسیری کا کہنا تھا کہ ترکی کے انجیرلیک فوجی اڈے پر سعودی فوج اور جنگی سامان پہنچانے کا مقصد عالمی اتحاد سے ذرا مختلف انداز میں داعش کے ٹھکانوں اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنا کرانہیں تباہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی اتحاد کا حصہ ہونے کے ناطے داعش کی سرکوبی کے لیے ہرممکن کوششوں کا پابند ہے۔ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام میں داعش کے اہم ٹھکانوں بالخصوص الرقہ شہر میں تنظیم کے ’بیس کیمپ‘ کو نشانہ بنائے گا۔جنرل عسیری نے وضاحت کی کہ ترکی پہنچنے والی سعودی فوج میں بری فوجی دستے شامل نہیں ہیں۔ ابھی تک صرف جنگی طیارے اور فضائیہ کے جوان وہاں بھیجے گئے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا سعودی عرب کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کے لیے سعوی عرب کی جانب سے فوج شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحاد نیٹو کے برسلز میں ہونے والے اجلاس کی سفارشات کے تحت فوج ترکی بھیجی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ سعودی عرب داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی اتحاد کا صف اول کا اتحادی ہے۔ اس لیے ہم شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری میں شدت لانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور اسی ضرورت کے پیش نظر فوج ترکی پہنچائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی تیاریاں انفرادی نوعیت کی نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی اتحاد کی مساعی کا حصہ ہیں جس میں سعودیہ اور ترکی دونوں پہلے ہی شامل ہیں۔جنرل عسیری سے پوچھا گیا کہ کیا برسلز میں نیٹو کےاجلاس کے دوران میں شام میں بری فوج اتارنے کی کوئی تجویز پیش کی گئی۔ اور کیا سعودی عرب اور ترکی کی شام میں فضائی کارروائی بری فوج کی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کےلیے ہے تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت کی گئی مگر اس کی تفصیلات بعد میں سامنے لائی جائیں گی۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…