ڈھاکہ(نیوزڈیسک)بنگلہ دیش میں ملبوسات کی صنعت سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے والے 30 لاکھ افراد زیادتی اور خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں صرف ایک چوتھائی گارمنٹس تیار کرنے والی فیکٹریوں کو نئے سیفٹی پروگرام کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ 2013 میں رانا پلازہ کے منہدم ہونے کے واقعے کے بعد بنگلہ دیش میں ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹریوں کو اپنے ملازمین کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے لیے کہا جاتا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹس کی برآمدات، دنیا کی دوسری بڑی انڈسٹری ہے اور یہاں حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ملبوسات بنانے والی 81 فیصد فیکٹریاں جو بین الاقوامی اداروں کو اپنا مال بیچتی ہیں، وہ محفوظ ہیں۔نیو یارک یونیورسٹی کے سینٹر برائے تجارت اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایاکہ 7000 میں سے تقریبا نصف فیکٹریاں بین الاقوامی ریٹیلرز کو براہ راست کپڑا برآمد کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی نگرانی کی جاتی ہے لیکن ان میں سے بھی صرف نصف فیکٹریوں کو انڈسٹری کے حفاظتی پروگرام کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔رانا پلازہ گرنے کے ہولناک حادثے کے بعد یورپی اور امریکی ریٹیلرز نے بنگلہ دیش میں آگ سے بچاؤ، عمارات کی پائیداری اور ملازمین کے تحفظ کے لیے ایک اتحاد قائم کیا، جس کے ذریعے 1900 فیکٹریوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے۔تحفظ فراہم کرنے والے اتحاد اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تحت کرائے جانے والے 3425 معائنوں میں صرف 8 فیکٹریاں پاس ہوئیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ’’رانا پلازہ واقعے کے بعد گارمنٹس سیکٹرکی اصلاح کا عمل سست روی کا شکار ہے جس کی ایک وجہ مہنگی تعمیراتی تبدیلیاں ہیں جو معائنے کو پاس کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ رانا پلازہ سانحے کے بعد کئی ممالک کی حکومتوں، بین الاقوامی ریٹیلرز اور ترقیاتی اداروں نے بنگلہ دیش میں ملبوسات کی انڈسٹری کے لیے 280 ملین ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پیسہ کہاں خرچ کیا جا رہا ہے اور یقینی طور پر یہ پیسہ ان ہزاروں فیکٹریوں میں حفاطتی اقدامات پر عملد درآمد کے لیے خرچ نہیں کیا جا رہا جو بالواسطہ طور پر اپنا مال برآمد کرتی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی اور امریکی ریٹیلرز کی جانب سے بنائے گئے اتحادی پروگرام کے تحت 100 ملین ڈالر پانچ برس کے لیے ان فیکٹریوں کے لیے مختص کیے گئے تھے جو بین الاقوامی ریٹیلرز کو براہ راست اپنا مال درآمد کرتی ہیں ایسی فیکٹریاں جو اپنے سرمایے سے بھی حفاظتی اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایسی فیکٹریوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو شفافیت اپناتی ہیں، فیکٹریوں کے معائنوں کو بھی بڑھانا چاہیے اور حفاظتی اقدامات اٹھانے میں غفلت برتنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی جانا چاہیے۔
بنگلہ دیش میں موت کارقص ،عالمی ادارے نے انتباہ جاری کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































