منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کا نیا ویزا قانون،ایرانی سب سے زیادہ پریشان

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ملک میں بغیر ویزے کے داخلے کے عمل کو سخت بنانے کے حق میں ووٹ دینے سے گھنٹوں پہلے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے والے ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر اس بل کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ قدم اس لیے اْٹھایا گیا ہے تاکہ اس طرح کے لوگوں کو روکا جا سکے جنھوں نے پیرس پر حملہ کیا تھا اور جن کے پاس یورپی یونین کی شہریت تھی۔ یہ اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ میں داخل ہونے کے لیے ’ویزا ویور‘ (ویزا سے استثنیٰ) جیسی سہولت کا فائدہ نہ اْٹھا سکیں۔امریکہ کے ’ویزا ویور پروگرام‘ کے تحت 38 ممالک کے شہری جن میں زیادہ تر کا تعلق یورپ سے ہے، اس وقت ویزا کی درخواست دیے بغیر امریکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔نئی قانون سازی میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ لوگ جو شام اور عراق جیسے’دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں‘ سے ہو کر آئے ہیں انھیں امریکہ میں داخل ہونے کے لیے ویزا چاہیے ہو گا۔لیکن حتمی قانون سازی میں ایران اور سوڈان کو بھی اْن ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا جنھیں امریکہ میں رسائی حاصل کرنے کے لیے ویزے کی ضرورت ہوگی کیونکہ امریکہ ان ممالک کو ’دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستیں‘ سمجھتا ہے۔ایچ آر 158 بل سے مْراد ہے کہ بہت سے یورپی یونین کے ممالک اور بقیہ 38 ریاستوں کے شہریوں کو اس پروگرام کے تحت امریکہ میں داخلے کے لیے ویزا کی درخواست دینی ہوگی جو تجارت یا چھٹی کی خاطر ایران کا سفر کرتے ہیں۔اس پابندی کا اطلاق یورپی یونین، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی دوہری شہریت کے حامل اْن لاکھوں افراد پر بھی ہوتا ہے جن کا تعلق ان ممالک سے ہے۔ایرانی امریکی انسانی حقوق کے ایک ممتاز سرگرم کارکن علی عابدی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’اس بار یہ لوگ ایرانیوں کو اْن جرائم کی سزا دے رہے ہیں جو شدت پسندوں نے کیے ہیں اور اصل میں جن کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ ہمیں کسی کو اْس کی جائے پیدائش کی وجہ سے سزا نہیں دینی چاہیے۔‘اس بل کے خلاف احتجاج منظم کرنے کے لیے سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بْک پر بھی لوگ سرگرم ہیں جن میں اس بل کی مخالفت کرنے والا اکاؤنٹStopHR15@ بھی شامل ہے۔ملک کی نمایاں شہری حقوق کی تنظیموں میں سے ایک اے سی ایل یو نے کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ ایسی قانون سازی نہ کرے جس کی وجہ سے کئی گروہ قومیت کی بنیاد پر قربانی کا بکرا بن جائیں اور جس سے ملک کے اندر اور باہر لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کو بڑھاوا ملے۔ سماجی میڈیا پر بہت سے ایرانی نڑاد امریکیوں نے اس بات پر شدید دْکھ کا اظہار کیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف اْن لوگوں پر نافذ کی جائیں گی جو ایران کی جانب سفر کریں گے لیکن اْن پر نہیں جو سعودی عرب اور پاکستان سے ہوں گے۔دیگر لوگوں نے اس قانون سازی کو صدارتی اْمیدوار بننے کے خواہشمند ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی بیان بازی کا تسلسل قرار دیا ہے۔اس قانون سازی نے یورپی یونین کے لیے بھی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔امریکہ کے لیے یورپی یونین کے سفیر ڈیوڈ او سولیون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی رْکن ریاستوں کے سفیروں نے کانگریس اور وائٹ ہاؤس کو بتایا ہے کہ ’موجودہ شکل میں یہ قانون ایسے نتائج لا سکتا ہے جن کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا۔‘ڈیوڈ او سولیون کا کہنا ہے کہ اب بھی اْن کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا کوئی راستہ نکالا جائے۔امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون سازی کے التوا کے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔یورپی یونین اور امریکہ میں رہنے والے فکرمند ایرانی شہری امید کرتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ حالیہ جوہری معاہدے اور اگلے سال ایران پر عائد پابندیوں کے اٹھ جانے کے امکان کے بعد امریکی سینیٹرز اس بل کی حتمی شکل سے کم از کم ’ایران‘ کو نکال دیں گے۔ایچ آر 158 کے خلاف لڑنے کے لیے بنائے گئے فیس بْک کے صفحے کی ایک سرکردہ رْکن شبنم ٹواسولی کے مطابق ’اس سے ایران کے لیے یورپی سیاحت اور کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…