جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

روسی لڑاکا طیاروں کی حمص اور حماہ میں شہری علاقوں پر بمباری ، چھتیس افراد ہلاک

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |
In this image made from video provided by Homs Media Centre, which has been verified and is consistent with other AP reporting, smoke rises after airstrikes by military jets in Talbiseh of the Homs province, western Syria, Wednesday, Sept. 30, 2015. Russian military jets carried out airstrikes in Syria for the first time on Wednesday, targeting what Moscow said were Islamic State positions. U.S. officials and others cast doubt on that claim, saying the Russians appeared to be attacking opposition groups fighting Syrian government forces. (Homs Media Centre via AP)

نیویارک(آن لائن) سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک نے اقوام متحدہ میں روس کے شام میں فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔روس کے لڑاکا طیاروں کی شام کے صوبوں حمص اور حماہ میں شہری علاقوں پر بمباری میں چھتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”حال ہی میں شام آنے والے ممالک یہ دعویٰ نہیں کرسکتے ہیں کہ وہ داعش کے خلاف لڑرہے ہیں بلکہ وہ بشارالاسد کی سفاک حکومت اور اس کے اتحادی حزب اللہ ایسے غیرملکی دہشت گرد گروپوں کی حمایت کررہے ہیں”۔ادھر فرانسیسی وزیردفاع ڑاں وائی ویس لی دریان نے پیرس میں ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ روسی طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔میں آپ کو یہ کہنا چاہتاہوں کہ آپ از خود اس کے متعدد تجزیے کرسکتے اور کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق حمص اورحماہ میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر روسی طیاروں کی بمباری میں مرنے والے تمام چھتیس افراد عام شہری ہیں اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔درایں اثنائ روس نے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے کہ شام میں اس کے فضائی حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے غلط اور ”اطلاعاتی جنگ” کا حصہ ہیں۔روسی وزارت خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس بین الاقوامی قانون کے تحت شام میں فضائی حملے کررہا ہے اور وہ بالکل جائز اور قانونی ہیں۔اس خاتون نے کہا:”دیانت داری کی بات یہ ہے کہ میں فرانس کی فضائی بمباری اور روس کے فضائی حملوں میں کوئی تمیز کرنے سے قاصر ہوں۔البتہ ان میں صرف ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ہم دمشق حکومت کی درخواست پر عمل کررہے ہیں۔

مزید پڑھئے:صدیوں پرانامعمہ ۔۔۔قرآن مجید کادعوی اس شان سے سچ ثابت ہوگا،بھلاکسے معلوم تھا؟

روسی صدر ولادی میر پوتین نے بدھ کو ایک نشری بیان میں کہا تھا کہ ”روس کو حفظ ماتقدم کے طور پر حملے کرنے چاہئیں اور شام میں جنگجوو¿ں کے ٹھکانوں کو تباہ کردینا چاہیے۔قبل اس کے کہ یہ خطرہ اس کے گھر پہنچ جائے”۔انھوں نے مزید کہا کہ ”بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے کا ایک ہی درست طریقہ ہے اور وہ یہ کہ پیشگی اقدام کیاجائے۔انھوں نے جن علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے،وہاں ان سے جنگ لڑی جائے اور ان کے جنگجوو¿ں اور ٹھکانوں کو تباہ کردیا جائے اور ان کی اپنے گھر تک آمد کا انتظار نہ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…