سمندری راستے سے بھارت کا4 ارب ڈالر کا گیس لائن منصوبہ ختم ہوگیا، پاکستان کو بائی پاس کیا گیا تھا ,بھارتی میڈیا

  جمعہ‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2015  |  19:23

 نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارتی اخبا رانڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستانی سمندری حدود میں اضافے سے بھارت کا سمندر سے 4ارب ڈالر کا گیس پائپ لائن منصوبہ خاک میں مل گیا ہے۔ بھارت نے ایران اور عمان سے ایک ارب 10کروڑ کیوبک فیٹ یومیہ لینے کا منصوبہ بنایاجسے پاکستان کو بائی پاس کرکے بنانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سمندی حدود سے متعلق کمیشن یو این سی ایل او ایس کی طرف سے پاکستان کی سمندری حدود میں 19مارچ کو 150بحری میل تک اضافے کی منظوری نے مشرق وسطیٰ


سے گیس پائپ لائن کے بھارتی منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔ بھارت کے داخلی جائزے میں گہرے سمندر سے عمان اور ایران سے گہرے سمندر کے ذریعے ایک مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبہ تیار تھا۔ ساﺅتھ ایشیاءگیس انٹر پرائز کی جانب سے تجویزہ کردہ 4ارب ڈالر کے پائپ لائن منصوبے میں پاکستان کو بائی پاس کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن منصوبے میں سے نئی دہلی کے جغرافیائی، سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کا بہانہ بنا کر پیچھے ہٹ جانے کے بعد بنایا گیا تھا۔ یہ منصوبہ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون کے باہر سے ایران کی چابہار اور عمان کے راسالجیفان سے سمندری راستے سے 1ارب 10کروڑ اسٹینڈڑڈ کیوبک فیٹ یومیہ گیس گجرات کے پوربندر اور پھر ممبئی تک لانے کا تھا۔ مجوزہ پائپ لائن کو کم سیاسی خدشات کی وجہ سے حتمی شکل دی جارہی تھی۔ گزشتہ سال مئی میں وزارت پٹرولیم کو اس سلسلے میں ایک پریزنٹیشن بھی دینے کا دعویٰ کیا گیا تاہم اقوا متحدہ کی طرف سے فیصلے کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی۔ سمندری حدود میں اضافے سے پاکستان کو علاقے میں موجود سمندری وسائل پر بھی مکمل کنٹرول مل گیا۔ EEZ کے دائرہ کار کے تحت علاقے میں توانائی کی پیداوار، بشمول سمندری وسائل کے استعمال کے حوالے سے اسلام آباد کو خصوصی حقوق مل گئے۔ بھارت کی طرف سے جائزے میں کہا گیا کہ بھارت کے مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبے کا پاکستان بینفشری نہیں ہے، اس لئے پاکستان کی طرف سے بھارت کو پائپ لائن کو گزارنے کی اجازت ملنے کا امکان نہیں، جیسا کہ1995 میں عمان سے بھارت کو فراہم کرنے کےلئے پائپ لائن منصوبے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، کیونکہ وہ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون سے گزرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت ساحلی ممالک کو 200ناٹیکل میل تک پانیوں پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنا حق ثابت کردیں تو 350ناٹیکل میل تک مزید حق مل جاتا ہے۔ دوسرا مسئلہ بھارت کے لئے یہ پیدا ہوا کہ گیس کمپریشن اسٹیشن کو عمانی ساحل سے 300کلومیٹر پر تعمیر کیا جانا تھا، جو پاکستان کی حدود میں ہے جس کے لئے اسلام آباد سے منظوری لینا ضروری ہے7مئی کو ایک ای میل ساﺅتھ ایشیاءگیس انٹر پرائز کی طرف سے کی گئی، جس میں اقوام متحدہ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر جواب مانگا گیا، مگر تاحال بھارت کے متعلقہ اداروں نے اس پر جواب نہیں دیا۔ آئی پی آئی گیس پائپ لائن منصوبے سے2009 میں بھارت سیکورٹی کے مسائل، گیس کی قیمتوں کا تعین اور گیس کے حجم کے ایشو اٹھا کر دستبردار ہوگیا تھاایران نے امریکی دباﺅمیں آنے کا بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے سمندری حدود بڑھانے کے لیے پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے سمندری حدود میں 50ہزار مربع کلومیٹر اضافہ کردیا تھا۔ پاکستان خطے کا پہلا ملک ہے جس کی سمندری حدود میں اضافہ کیا گیا 2005میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے سمندی حدود سے متعلق کمیشن یو این سی ایل او ایس میں 200سے 350بحری میل تک اپنی سمندری حدود میں اضافے کا دعویٰ دائر کیا تھا 4سال بعد اقوام متحدہ نے اسے تسلیم کیا اور اس کا سروے مئی2009 میں کیا گیاجس پر 50کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ سمندی حدود کی توسیع کےلئے تیار کیے جانے والے اس دعوے کی تیاری میں وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی اور بحری جغرافیہ سے متعلق ادارے این آئی او نے مشترکہ طور پر حصہ لیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے پاکستان کی سمندری حدود میں 19مارچ کو 150بحری میل تک اضافے کی منظوری دی۔ سمندری حدود میں اضافے سے پاکستان کو اس علاقے میں موجود سمندری وسائل پر بھی مکمل کنٹرول مل گیا ہے۔

loading...