منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کا ایسا ملک جہاں 96 سال سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا

datetime 8  مارچ‬‮  2025 |

ویٹی کن سٹی (نیوز ڈیسک)  جہاں ایک طرف دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، بھارت سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے، اور پاکستان میں بھی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں گزشتہ 96 سال میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔

یہ حیران کن حقیقت دنیا کے سب سے چھوٹے ملک ویٹی کن سٹی سے جڑی ہوئی ہے، جہاں نہ صرف کوئی پیدائش نہیں ہوتی بلکہ یہاں کوئی اسپتال بھی موجود نہیں ہے۔

ویٹی کن سٹی میں پیدائش کیوں ممکن نہیں؟

یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ 21ویں صدی میں کوئی ملک اسپتال کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ ویٹی کن سٹی کی مذہبی حیثیت ہے۔ یہ چھوٹا سا ملک 11 فروری 1929 کو قائم ہوا تھا اور یہ کیتھولک چرچ کا روحانی اور انتظامی مرکز ہے، جہاں صرف مذہبی شخصیات بشمول پادری ہی قیام پذیر ہوتے ہیں۔

اسپتال کیوں نہیں بنایا گیا؟

ملک میں اسپتال نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا انتہائی محدود رقبہ ہے، جو صرف 118 ایکڑ پر محیط ہے۔ اسپتال کی عدم موجودگی کے باعث یہاں ڈیلیوری روم بھی نہیں، جس کے باعث گزشتہ تقریباً ایک صدی میں یہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے یا کسی حاملہ خاتون کو طبی امداد کی ضرورت ہو تو انہیں قریبی روم کے اسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔

ویٹی کن سٹی کی آبادی اور دیگر دلچسپ حقائق

ویٹی کن سٹی کی کل آبادی تقریباً 800 سے 900 افراد پر مشتمل ہے، جن میں اکثریت مذہبی رہنماؤں اور پادریوں کی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دنیا کے سب سے چھوٹے ریلوے اسٹیشن کا بھی حامل ہے، جو پوپ پیئس XI کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا، اور جہاں صرف کارگو ٹرانسپورٹ کے لیے دو 300 میٹر لمبے ٹریکس موجود ہیں۔

دیگر مقامات جہاں پیدائش نہ ہونے کے برابر ہے

ویٹی کن سٹی کے علاوہ دنیا میں چند دیگر مقامات بھی ایسے ہیں جہاں پیدائش بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ان میں شامل ہے پٹکیرن جزائر، جو ایک برطانوی سمندر پار علاقہ ہے اور جہاں آبادی 50 افراد سے بھی کم ہے۔ اسی طرح، انٹارکٹیکا میں بھی کوئی مستقل پیدائش نہیں ہوتی، کیونکہ یہ علاقہ سائنسی تحقیق کے لیے مخصوص ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…