ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سطح سمندر سے ساڑھے تین ہزار میٹر کی بلندی پرتعمیر کیا گیا ریلوے سٹیشن پوری دنیا کی توجہ کا مرکزبن گیا

datetime 24  اپریل‬‮  2021 |

برسلز (این این آئی)سوئٹزرلینڈ کا یْنگ فراؤ ریلوے اسٹیشن کوہ ایلپس میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے قریب ساڑھے تین ہزار میٹر کی بلندی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اسے ایک تکنیکی شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔اگست 1893 میں سوئس صنعت کار اڈولف گوئر سیلر نے ایک دلیرانہ فیصلہ کیا کہ ایک ریلوے ٹریک مکمل کیا جائے جو کوہ ایلپس کی بلند چوٹی تک جائے۔ اس چوٹی کی

سطح سمندر سے بلندی چار ہزار ایک سو اٹھاون میٹر (13641 اکتالیس فٹ) اور نام یْنگ فراؤ (Jungfrau) ہے۔اس چوٹی کو پہلی مرتبہ سن 1811 میں سر کیا گیا اور اس کے قریب بیاسی برس بعد ریلوے لائن بچھانے کے خواب کو تعبیر ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ ریلوے ٹریک کھدائی شروع کرنے کے سولہ برس بعد مکمل ہوا۔ ریلوے لائن اس بلندی تک نہیں پہنچ سکی جس کا خواب اڈولف گوئر سیلر نے دیکھا تھا۔ یہ صرف تین ہزار چار سو چون میٹر (گیارہ ہزار تین سو بتیس فٹ) پر واقع Jungfraujoch کے مقام تک ہی پہنچ پائی۔اس ریل ٹریک کی تعمیر کو آج بھی انجینیئرنگ کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں نو کلو میٹر کا نصف، سرنگ والا ٹریک ہاتھوں سے کھودنا پڑا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کے قومی دن یعنی یکم اگست کو اولین ریل گاڑی نے اس ٹریک پر سفر کیا تھا۔ڈوئچے ویلے کے رپورٹر ہینڈرک ویلنگ نے یورپ کے اس بلند ترین ریلوے اسٹیشن تک جانے کے سفر کا احوال ٹی وی کے یورومیکس ثقافتی پروگرام میں بیان کیا۔ اس ریل گاڑی کا نام یْنگ فراؤ ٹرین ہے۔ہینڈرک ویلنگ نے بلند ترین اسٹیشن پر پہنچ کر سارے منظر کو انتہائی شاندار قرار دیا۔ اس منظر کو انہوں نے ایلپائن پینوراما کا نام دیا۔ اس مہماتی سفر کے دوران وہ تعمیر کے کئی حیران کن اور دلچسپ حقائق بھی جان پائے۔اس ریل گاڑی کا یک طرفہ سفر صرف آدھ گھنٹے کا ہے۔ اس سفر میں ٹرین قریب چودہ سو میٹر کی بلندی طے کرتی ہے۔ اسی سفر میں ایک اسٹیشن آئسمیر بھی ہے، جہاں ٹرین کچھ دیر کے لیے رکتی ہے۔ اس اسٹیشن پر سیاح اتر کر ارد گرد کے ماحول اور راستے کو دیکھ کر زیادہ لطف اٹھا سکتے ہیں۔ آئسمیر ریلوے اسٹیشن سے سیاحوں کو ایلپس کی کئی دوسری بلند پہاڑی چوٹیوں کا نظارہ کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ریل گاڑی کا سفر سرنگ میں بنے اسٹیشن پر ختم ہوتا ہے۔ موسم اچھا ہونے کی صورت میں کوہ ایلپس کی قریب دو سو چوٹیاں بھی اس مقام سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ یْنگ فراؤ اورمؤنش کی چوٹیاں تو قریب ہیں اور برف سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…