ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

سطح سمندر سے ساڑھے تین ہزار میٹر کی بلندی پرتعمیر کیا گیا ریلوے سٹیشن پوری دنیا کی توجہ کا مرکزبن گیا

datetime 24  اپریل‬‮  2021 |

برسلز (این این آئی)سوئٹزرلینڈ کا یْنگ فراؤ ریلوے اسٹیشن کوہ ایلپس میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے قریب ساڑھے تین ہزار میٹر کی بلندی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اسے ایک تکنیکی شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔اگست 1893 میں سوئس صنعت کار اڈولف گوئر سیلر نے ایک دلیرانہ فیصلہ کیا کہ ایک ریلوے ٹریک مکمل کیا جائے جو کوہ ایلپس کی بلند چوٹی تک جائے۔ اس چوٹی کی

سطح سمندر سے بلندی چار ہزار ایک سو اٹھاون میٹر (13641 اکتالیس فٹ) اور نام یْنگ فراؤ (Jungfrau) ہے۔اس چوٹی کو پہلی مرتبہ سن 1811 میں سر کیا گیا اور اس کے قریب بیاسی برس بعد ریلوے لائن بچھانے کے خواب کو تعبیر ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ ریلوے ٹریک کھدائی شروع کرنے کے سولہ برس بعد مکمل ہوا۔ ریلوے لائن اس بلندی تک نہیں پہنچ سکی جس کا خواب اڈولف گوئر سیلر نے دیکھا تھا۔ یہ صرف تین ہزار چار سو چون میٹر (گیارہ ہزار تین سو بتیس فٹ) پر واقع Jungfraujoch کے مقام تک ہی پہنچ پائی۔اس ریل ٹریک کی تعمیر کو آج بھی انجینیئرنگ کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں نو کلو میٹر کا نصف، سرنگ والا ٹریک ہاتھوں سے کھودنا پڑا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کے قومی دن یعنی یکم اگست کو اولین ریل گاڑی نے اس ٹریک پر سفر کیا تھا۔ڈوئچے ویلے کے رپورٹر ہینڈرک ویلنگ نے یورپ کے اس بلند ترین ریلوے اسٹیشن تک جانے کے سفر کا احوال ٹی وی کے یورومیکس ثقافتی پروگرام میں بیان کیا۔ اس ریل گاڑی کا نام یْنگ فراؤ ٹرین ہے۔ہینڈرک ویلنگ نے بلند ترین اسٹیشن پر پہنچ کر سارے منظر کو انتہائی شاندار قرار دیا۔ اس منظر کو انہوں نے ایلپائن پینوراما کا نام دیا۔ اس مہماتی سفر کے دوران وہ تعمیر کے کئی حیران کن اور دلچسپ حقائق بھی جان پائے۔اس ریل گاڑی کا یک طرفہ سفر صرف آدھ گھنٹے کا ہے۔ اس سفر میں ٹرین قریب چودہ سو میٹر کی بلندی طے کرتی ہے۔ اسی سفر میں ایک اسٹیشن آئسمیر بھی ہے، جہاں ٹرین کچھ دیر کے لیے رکتی ہے۔ اس اسٹیشن پر سیاح اتر کر ارد گرد کے ماحول اور راستے کو دیکھ کر زیادہ لطف اٹھا سکتے ہیں۔ آئسمیر ریلوے اسٹیشن سے سیاحوں کو ایلپس کی کئی دوسری بلند پہاڑی چوٹیوں کا نظارہ کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ریل گاڑی کا سفر سرنگ میں بنے اسٹیشن پر ختم ہوتا ہے۔ موسم اچھا ہونے کی صورت میں کوہ ایلپس کی قریب دو سو چوٹیاں بھی اس مقام سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ یْنگ فراؤ اورمؤنش کی چوٹیاں تو قریب ہیں اور برف سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…