پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

مرغی کے گوشت کا متبادل تیار دنیا میں پہلی بار لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت کی فروخت

datetime 3  دسمبر‬‮  2020 |

سنگارپور (این این آئی)سنگاپور میں اب گوشت کے لیے مرغی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ لیبارٹری میں تیارکردہ گوشت جلد ریستورانوں میں دستیاب ہوگا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی کمپنی’’ایٹ“ نے بتایا ہے کہ اس کے لیباریٹری میں تیارکردہ

گوشت کو سنگاپور میں فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔کمپنی کے مطابق یہ خبر دنیا بھر کی فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے‘ کیونکہ کمپنی گوشت کی تیاری کے لیے ماحول کے لیے کم خطرناک طریقوں کی تلاش میں ہے۔ایٹ جسٹ نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جوش ٹیٹرک کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ منظوری فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے مستقبل کے لیے ایسے دروازے کھلیں گے کہ جب جانوروں کو مارے بغیر گوشت حاصل کیا جا سکے گا۔مجھے امید ہے کہ یہ آئندہ کچھ سالوں میں ایک ایسی دنیا میں لے جائے گا جہاں گوشت کے لیے کسی بھی جانور کو ہلاک کرنے یا ایک بھی درخت کو کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ماحول اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے صارفین کے دباؤ کی وجہ سے گوشت حاصل کرنے کے متبادل طریقے اپنانے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔صارفین کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ لیبارٹری میں

تیارکردہ گوشت مہنگے داموں فروخت ہوگا تاہم ایٹ جسٹ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کمپنی سستے داموں اس کی تیاری کر رہی ہے۔کمپنی نے مرغی کے گوشت کا متبادل تیار کرنے کے لیے ایک ہزار 200 لیٹر کے بائیو ری ایکٹر کو استعمال کیا اس دوران حفاظتی پہلوؤں کو بھی

مدنظر رکھا گیا تاکہ جانوروں کے سیلز سے معیاری گوشت تیار کیا جاسکے۔سنگاپور کی فوڈ ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایٹ جسٹ کے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی فروخت کی منظوری دی ہے جو نگٹس بنانے میں استعمال ہوگا۔سنگاپور کی فوڈ ایجنسی نے یہ منظوری اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد دی ہے کہ لیباریٹری میں تیارکردہ مرغی کا گوشت استعمال کے لیے محفوظ اور معیاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…