مرغی کے گوشت کا متبادل تیار دنیا میں پہلی بار لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت کی فروخت

  جمعرات‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2020  |  21:38

سنگارپور (این این آئی)سنگاپور میں اب گوشت کے لیے مرغی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ لیبارٹری میں تیارکردہ گوشت جلد ریستورانوں میں دستیاب ہوگا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی کمپنی’’ایٹ“ نے بتایا ہے کہ اس کے لیباریٹری میں تیارکردہ

گوشت کو سنگاپور میں فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔کمپنی کے مطابق یہ خبر دنیا بھر کی فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے‘ کیونکہ کمپنی گوشت کی تیاری کے لیے ماحول کے لیے کم خطرناک طریقوں کی تلاش میں ہے۔ایٹ جسٹ نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جوش ٹیٹرک کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ منظوری فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے مستقبل کے لیے ایسے دروازے کھلیں گے کہ جب جانوروں کو مارے بغیر گوشت حاصل کیا جا سکے گا۔مجھے امید ہے کہ یہ آئندہ کچھ سالوں میں ایک ایسی دنیا میں لے جائے گا جہاں گوشت کے لیے کسی بھی جانور کو ہلاک کرنے یا ایک بھی درخت کو کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ماحول اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے صارفین کے دباؤ کی وجہ سے گوشت حاصل کرنے کے متبادل طریقے اپنانے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔صارفین کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ لیبارٹری میں

تیارکردہ گوشت مہنگے داموں فروخت ہوگا تاہم ایٹ جسٹ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کمپنی سستے داموں اس کی تیاری کر رہی ہے۔کمپنی نے مرغی کے گوشت کا متبادل تیار کرنے کے لیے ایک ہزار 200 لیٹر کے بائیو ری ایکٹر کو استعمال کیا اس دوران حفاظتی پہلوؤں کو بھی

مدنظر رکھا گیا تاکہ جانوروں کے سیلز سے معیاری گوشت تیار کیا جاسکے۔سنگاپور کی فوڈ ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایٹ جسٹ کے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی فروخت کی منظوری دی ہے جو نگٹس بنانے میں استعمال ہوگا۔سنگاپور کی فوڈ ایجنسی نے یہ منظوری اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد دی ہے کہ لیباریٹری میں تیارکردہ مرغی کا گوشت استعمال کے لیے محفوظ اور معیاری ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎