بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکا : جیل میں بچے کی پیدائش، عدم تعاون پر ماں نے مقدمہ کردیا

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے علاقے ڈنفر میں جیل میں قید کی گئی ایک خاتون کے ہاں جیل کی کوٹھڑی میں انتہائی نا مساعد حالات میں بچے کی پیدائش نے جیل انتظامیہ اور دیگر حکام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بچہ جنم دینے والی 27 سالہ ڈیانا سانشیز کو 14 جولائی 2019ء کو جیل میں ڈالا گیا جہاں آتے ہی اس نے حکام کو بتایا تھا کہ وہ امید سے ہے اور اس کے حمل کا آخری ماہ چل رہاہے۔

مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے اس کی بات پر کان نہیں دھرا گیا۔ اسے اس دوران کسی قسم کی طبی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ اکتیس جولائی کو اس نے صبح پانچ بجے کھانا لے کرآنے والے ایک سیکیورٹی اہلکار کو بتایا کہ وہ زچگی کی تکلیف سے دوچار ہے۔ اس لیے اس کی فوری مدد کی جائے مگر اس وقت بھی اس کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ وہ چھ گھنٹے ٹھنڈی کوٹھڑی میں پڑی تکلیف سے تڑپتی رہی۔ آخر کار اس نے جیل ہی میں بچے جو جنم دیا۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد ایک نرس ٹہلتی ٹہلتی اس کے پاس آئی۔ اس نے خاتون کا بہتا خون روکنے کی برائے نام کوشش کی اور انتہائی لاپرواہی سے بہت دیر سے ایک ایمبولینس بلا کر خاتون اور اس کے بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا۔جیل میں زچگی کے دوران عدم تعاون پرڈیانا سانشیز جیل کے پورے عملیاور ڈانفر انتظامیہ کے خلاف کیس کیا ہے۔ اس نے اپنے دعوے میں موقف اختیار کیا ہے کہ جیل میں آتے ہی اس نے پولیس حکام اور جیل انتظامیہ کو اپنی صحت کے بارے میں بتا دیا تھا مگر اسے نہ صرف اس دوران بلکہ بچے کی پیدائش کے وقت بھی کسی قسم کی معاونت اور مدد فراہم نہیں کی گئی۔دوسری جانب پولیس نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ پولیس کا کہناتھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور جیل عملے کی طرف سے ڈیانا کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا جب خاتون قیدی کو بچے کی پیدائش کی تکلیف شروع ہوئی تو فوری طورپر ایمبولینس بلا کر اسے اسپتال پہنچایا گیا تھا مگر خاتون کی طرف سے جیل کے کیمروں کا ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…