پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

لاشوں کے ٹکڑے پرندوں کو کھلانے والا علاقہ، کیا آپ جانتے ہیں یہ کہاں واقع ہے؟ جانئے

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

بیجنگ(نیوزڈیسک)دنیا کے کچھ مذاہب اور معاشروں میں انتقال کرجانے والوں کی تدفین کی جاتی ہے بعض مذاہب میں جلا یا جاتاہے ، اسی طرح اور بھی کئی طریقے رائج ہیں مگر چین کے علاقے تبت میں لوگ اپنے مرجانے والے پیاروں کے ٹکڑے کرکے چیلوں اور کوئوں کو کھلادیتے ہیں ۔تبت میں بدھ مت کے پیروکار رہتے ہیں اور ان کی مقدس کتاب میں لکھا ہواہے کہ ”تمہارا جسم دماغی (روحانی )جسم ہے جو کبھی مر نہیں سکتا۔

خواہ تمہارا سر قلم کردیا جائے یا تمہارے ٹکڑے کردیئے جائیں ۔تبت کے لوگوں کا عقید ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغازہوتی ہے ۔مرنے کے بعد انسان کی روح بعد ازحیات زندگی کے کئی مراحل میں سے گزرتی ہے اور ان مراحل میں اس کے راستے کا تعین ”کرما”(زندگی میں کیے گئے اعمال)کرتاہے ۔یہ لوگ کسی شخص کو اس کی موت واقع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سیدھا بٹھا دیتے ہیں اور اسے دو دن تک ہاتھ نہیں لگاتے ۔اس دوران ایک راہب اپنی مقدس کتاب میں سے کچھ پڑھتا رہتاہے ۔دو دن بعد میت کو آخری رسومات ادا کرنے کی جگہ پر ایک جلوس کی شکل میں لے جایا جاتاہے جس کی قیادت راہب کرتے ہیں ۔اسے تبت کی زبان میں (Rogyapas)روگے اپس کہتے ہیں ۔یہاں روگے اپس تبت کے بدھ پیشوا کی ہدایات کے مطابق اس میت کے ٹکڑے کرتاہے اور پھر چیلوں کو کھلادیتاہے ۔بچ جانے والی ہڈیوں کو باریک پیس کر ان کا سفوف بنایا جاتاہے او وہی سفوف دودھ ، مکھ یا چائے میں ڈال کر گدھوں کو کھلایا جاتاہے ۔تبت کے ا ن بدھوں کا عقید ہ ہے کہ گدھ جس شخص کا گوشت اور ہڈیوں کا سفوف نہ کھائیں یا اس کا کوئی تھوڑا سا حصہ بھی بچ جائے تو یہ اس شخص کو گناہگار تصور کرتے ہیں ۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ چیلیں مرنے والے شخص کی روح کو اپنے ساتھ ”جنت ”میں لے جاتی ہیں اس لیے جس شخص کا گوشت یہ چیلیں نہ کھائیں اس شخص کا ٹھکانہ جنت کے بجائے دوزخ بن جاتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…