پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ڈپریشن اور شکٹزوفرینیا میں مبتلا روسی ماوئوں کا اپنے ہی بچوں کیساتھ کیا کرتیں ہیں ؟ ماہرین کا حیران کن انکشاف

datetime 24  جولائی  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکہ اورروسی ماہرین ِ نفسیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ڈپریشن اور شکٹزوفرینیا میں مبتلا روسی ماوئیں اپنے ہی بچوں کو قتل کر ر ہی ہیںاورہر چار میں سے ایک ماں کے ذہن میں اپنے بچے کو مارنے کے بارے میں خیالات آتے ہیں،روس میں ہر سال درجنوں خواتین کو اپنے ہی بچوں کے قتل کے جرم میں سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان ملزمان میں متعدد بچوں والی، گھر پر رہنے والی

اور کامیاب کاروباری خواتین بھی شامل ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی صحافی اولیسیا گراسیمینکو اور سویتلانا ریٹر نے روس میں ایسی خواتین سے بات کی تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ مائیں اپنے ہی بچوں کو کیوں قتل کرتی ہیں۔ان کی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم مامتا سے متعلق افسانوں اور متنازع موضوعات سے متعلق خاموشی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں اور ماؤں پر موجود نفسیاتی دباؤ کی حقیقت بیان کر سکیں تاکہ بچوں کے قتل جیسے سانحوں سے بچا جا سکے۔انھوں نے چھوٹے بچے کے کپڑے اور بچہ گاڑی خریدی اور الیونا نے بچے کی پیدائش سے قبل معلوماتی کلاسز بھی لیں۔ لیکن کسی نے انھیں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو پیش آنے والے نفسیاتی مسائل کے بارے میں نہیں بتایا۔بچے کی پیدائش کے بعد الیونا کو کم خوابی کا عارضہ لاحق ہو گیا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔بعد میں پتا چلا کہ ان کے ساتھ ماضی میں ایک نفسیاتی مسئلہ ہوا تھا اور اب ایک ماہرِ نفسیات نے انھیں کچھ ادویات دیں ہیں جن سے انھیں کچھ افاقہ ہوا۔ایک دن پیوٹر گھر پہنچے تو انھوں نے اپنے سات ماہ کے بچے کو باتھ روم میں مردہ حالت میں پایا اور الیونا بعد میں انھیں ماسکو کے مضافات میں ایک جھیل کے کنارے بیٹھی ملیں۔اپنے بچے کو ڈبونے کے بعد الیونا نے ایک واڈکا کی بوتل پی لی تھی تاکہ وہ خود بھی ڈوب جائیں لیکن وہ بے ہوش ہو گئیں۔انھیں یقین ہے کہ اگر کوئی الیونا کے سامنے بچہ پیدا ہونے کے بعد ہونے والے ڈپریشن کا ذکر بھی کر لیتا تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔روس کے ماہرِین جرائم کہتے ہیں کہ 80 فیصد خواتین اپنے بچے کو مارنے سے پہلے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور کم خوابی، سر درد اور حیض کی بیقاعدگی کے بارے میں شکایت کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…