پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

بیت المقدس سے تعلق رکھنے والی چار جڑواں بہنوں میں حیرت انگیز اور عجیب و غریب مماثلت، وجہ شہرت کیا بنی ؟ جان کر دنگ رہ جائیں گے

datetime 23  جولائی  2019 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)کہتے ہیں کہ جڑواں بچوں میں بہت سی خوبیاں، خامیاں اور عادات واطوار میں یکسانیت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان دنوں فلسطین کی چار جڑواں بچیوں کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ ان کی تازہ شہرت کی وجہ میٹرک کے امتحانات میں ان کے حیران کن طورپر ایک ہی جیسے نتائج اور نمبرات کا حصول ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس سے

تعلق رکھنیوالی یہ چاروں بہنیں دیما، دینا، رزان اور سوزان شنیطی کے ناموں سے جانی جاتی ہیں۔میٹرک کے امتحانات کے نتائج آئے تو ان چاروں بہنوں کے حیران کن طور پرقریب قریب ایک ہی جیسے نتائج تھے۔ چاروں سائنس کے مضامین کی طالبات ہیں۔ دینا نے 93 اعشاریہ 9، دیما نے 92 اعشاریہ چار، رزان نے 91 اعشاریہ ایک اور سوزان نے 91 اعشاریہ چار فی صد نمبر لے ناقابل یقین کامیابی کی مبارک باد وصول کی۔ ایک سال قبل چاروں نے قرآن پاک حفظ کیا اور چاروں نے تحفیظ القرآن کے ایک مقابلے میں بھی حصہ لیا۔ چاروں نے حفظ قرآن کے مقابلے اور امتحان میں بھی یکساں نمبر حاصل کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے میٹرک کے امتحانات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی چارروں جڑواں بہنوںنے کہا کہ وہ اپنی کامیابی کو فلسطینی قوم کے نام منسوب کرتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہم بیت المقدس کے علاقے صور باھر کی رہائشی ہیں اور یہ علاقہ صہیونی ریاست کی مجرمانہ ریاستی دہشت گردی کا خاص ہدف ہے۔چاروں جڑواں بچیوںکے خوش نصیب والد الحاج ابو ایاد شنیطی نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری بچیوں کی کامیابی میری پوری قوم کی کامیابی ہے اور ان کے شاندار نمبروں کے ساتھ امتحان پاس کرنے کے پیچھے ان کی ماں کا کلیدی کردار ہے۔الشنیطی کا کہنا تھا کہ میری صاحبزادیوں کی شاندار کامیاب دنیا کی ہرمیٹھی چیز سے زیادہ شیریں ہے،میں امید اور توقع کرتا ہوں کہ میر چاروں لخت ہائے جگر اپنے تعلیمی مشن میں آنے والے مراحل میں بھی اسی طرح کے نتائج حاصل کرکے ملک وقوم کی خدمت کریںگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…