جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

مصر میں مردہ قراردے کر دفن کیا گیا شہری تیسرے روز گھرآپہنچا، اہل خانہ حیران وپریشان!

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

قاہرہ(این این آئی)مصرمیں ایک شہری گذشتہ دنوں اچانک لاپتا ہوگیا۔ اہل خانہ نے اس کی تلاش کی مگر وہ نہ ملا۔ پولیس کو دریائے نیل سے ایک شخص کی لاش ملی جو جنوبی قاہرہ کے علاقے حلوان کی عرب غنیم کالونی سے گم ہونے والے 30 سالہ رمضان علالدین کا ہم شکل تھا۔ مردہ شخص کی شناخت رمضان علا الدین کے طورپر کی گئی اور اس کے ورثا نے لاش دفن بھی کردی۔ تدفین کے تین دن بعد جب اہل خانہ

مسلسل تعزیت میں مصروف تھے کہ رمضان اچانک گھرآپہنچا۔عر ٹی وی کے مطابق دریائے نیل سے جس شخص کی لاش ملی اس میں وہی علامات تھیں جو رمضان کی شناخت کا حصہ ہوسکتی ہیں۔ مثلا اس کے سینے میں جلن کا واضح نشان ہے۔ مردہ شخص کے سینے پر بھی وہی نشان تھا اور لمبائی بھی اتنی ہی تھی تاہم چہرے کی شناخت مشکل ہو رہی تھی۔رمضان علا الدین کے اہل خانہ صدمے سے نڈھال تھے کہ اس نے اچانک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ زندہ اور عافیت سے ہے۔ وہ اہلیہ سے جھگڑے کے بعد کسی کو بتائے بغیر کام کے لیے اسکندریہ چلا گیا تھا۔ اس کے کسی دوست نے اسے بتایا کہ گائوں میں اسے مردہ قرار دے جا چکا ہے۔بعض اخبارات میںبھی میرے نام کے ساتھ ایک مردہ شخص کی لاش دکھائی گئی تھی۔ میں اسکندریہ کچھ عرصہ کام کاج کرنا چاہتا تھا کہ اپنے بارے میں حیران کن خبر سن کر گھرلوٹ آیا۔اہل خانہ کو اس کی باتوںپر یقین نہیںہو رہا تھا بلکہ بعض نے تو یہ سمجھا کہ ان کے سامنے رمضان علا الدین کا ہم شکل کوئی جن یا بھوت ہے۔ وہ اس سے باربار سوال جواب کرتے۔ وہ اس کے ماضی کے بارے میں کریدتے۔ اگرچہ اہل خانہ کو اپنے گم شدہ فرد کی واپسی کی خوشی تو تھی ان کے لیے پریشانی یہ بن گئی کہ مردہ قراردے گئے شخص کو اب سرکاری ریکارڈ میں دوبارہ کیسے زندہ قرار دلوایا جائے۔پراسیکیوٹر جنرل نے رمضان اور اس کے اہل خانہ پر سرکاری ریکارڈ میں جعل سازی کا الزام عایدکیا ہے۔ عدالت نے دفن کیے گئے شخص کا بھی پوسٹ مارٹم کرنے کرکے اس کی شناخت کا حکم دیا ہے۔رمضان کی ماں نے بتایا کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنی بجلی کے سامان کی دکان پر بیٹھی تھی کہ ایک نقاب پوش شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور زور سے ہنسنا شروع ہوگیا۔ اس وقت مجھے پتا چلا یہ تو میرا گم شدہ بیٹا ہے۔ میں حیران و پریشان تھی اور مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ قیامت آگئی اور میرے آس پاس لوگ مردے ہیں جو دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…