بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

سعودیہ نے ہم پر ٹِڈیاں چھوڑ دیں‘ایرانی عہدیدار کی انوکھی منطق

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایران اپنے اوپرنازل ہونے والی ہرمصیبت کا ذمہ دار سعودی عرب ٹھہرانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ ایران کے بعض ساحلی اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران سمندری ٹڈیوں نے حملہ کردیا اور ایرانی عہدیدار اس کا الزم بھی سعودی عرب کے سرتھوپتے ہیں۔عرب ٹی وی کیمطابق ایران کے ایک سینیر عہدیدار نے الزام عایدکیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران پر ٹڈیاں چھوڑی ہیں۔

جنہوں نے خلیج عرب کے ساحل سے متصل علاقوں میں فصلیں تباہ کردیں۔عرب ٹی وی کیمطابق ایران کے انسداد آفات وتحفظ نباتات کے ڈائریکٹر جنرل سعید معین معین نے اپنے ایک انٹرویومیں کہاکہ سعودی مملکت شرارتی طریقوں پرعمل پیرا ہے اور اس نے ٹڈیوں کا رخ ایران کی طرف موڑ دیا تاکہ ایرانی فصلوں کوتباہ کیا جاسکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب کیخلاف زہراگلنا معمول کی بات ہے مگر ٹڈیوں کو ایران پرحملے پراکسانے کی منطق ناقابل فہم ہے۔ ایرانی عہدیدارکے اس عجیب بیان پر سوشل میڈیا پر اس کا خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔زرعی امور کے ماہر فرھاد طالشی نے سعید معین کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ لندن سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے لکھا ہیکہ ٹڈیوں کا حملہ ایک عام آفت ہے جس کا سعودی عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ صحرائی ٹڈیاں رطوبت والے علاقوں سے اٹھتی ہیں۔ یہ زیادہ تر بحیرہ روم کے اطراف کیممالک، مصر اور سوڈان کے صحرائی علاقوں سے نکلتی ہیں۔ ان کا سعودی عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے سعودی عرب پر الزام دھرنے والے عہدیدار کو جاھل اور کند ذہن قرار دیا۔خیال رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران ایران کے 6 ساحلی اضلاع پر بحری ٹڈیوں نے یلغار کردی۔یہ یلغار ایک ایسے وقت میں کی گئی جب دوسری جانب ایران میں بارشوں کے باعث سیلاب نے تہران کی معیشت کو تقریبا ایکارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…