پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ہزاروں افراد کینسر میں مبتلا بچے کی جان بچانے کے لیے بارش میں بھیگتے رہے

datetime 7  مارچ‬‮  2019 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) کینسر میں مبتلا 5 سالہ بچے کی امداد کیلئے ہزاروں افراد شدید بارش کے باوجود صفیں بنائے کھڑے رہے تاکہ خون کی مماثلت کے بعد بچے کو بون میرو دیا جاسکے۔ تفصیلات کے مطابق خطرناک مرض کینسر سے زندگی و موت کی جنگ لڑنے والے 5 سالہ بچے کی

آسکر سیکزلبے کی زندگی بچانے کےلیے شدید بارش کے دوران 4 ہزار 855 افراد صف بنائے کھڑے رہے تاکہ بون میرو عطیہ کرنے کےلیے خون کی مماثلت کی جاسکے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آسکر کے پاس ڈونر تلاش کرنے کےلیے محض تین ماہ ہیں جو اپنا بون میررو عطیہ کرکے اسے لیمفوبلاسٹک لیوکیمیا کا شکار بننے سے بچا سکے۔ مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے گزشتہ برس دسمبر میں کیمو تھراپی بھی ہوچکی ہیں تاہم اسے موذی مرض سے بچانے کےلیے مزید علاج کی ضرورت ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بچے کے اہلخانہ کےلیے تین ماہ میں ڈونر کو تلاش کرنا بہت ضروری ہے، والدین کی جانب سے بچے کی امداد کےلیے کی گئی اپیل کے بعد ہزاروں افراد پیٹماسٹن اسکول پہنچ گئے تاکہ مماثلت کی جاسکے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ لیمفوبلاسٹک لیوکیمیا نایاب مرض ہے جو ہر سال 655 برطانوی شہریوں کو اپنا شکار بناتا ہے جس میں آدھی تعداد کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔ یہ ایک انتہائی تیزی سے بڑھنے والا کینسر ہے جس میں ہڈیوں کے گودے سے بننے والے خون کے سفید خلیے، اپنی غیر پختہ حالت میں ہی خون میں شامل ہونے لگتے ہیں جس کےسبب جسم کادفاعی نظام شکست و ریخت کا شکا رہوجاتا ہے۔ خون کے خلیے جیسے جیسے پھیلتے جاتے ہیں مذکورہ کینسر کی نشانیاں واضح ہوتی جاتی ہیں جیسے ٹھکاوٹ محسوس ہونا، سانس لینے دشواری، رنگت کا پیلا پڑنا، بخا اور ہڈیوں اور جوڑوں میں درد ہونا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بیس مرتبہ آسکر کا خون تبدیل کیا جاچکا ہے جبکہ چار ہفتوں تک کیمو تھراپی کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز کی جانب کی کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی ایسا ڈونر میسر آجائے جس کے خون کے خلیوں کا آسکر جسم قبول کرلے وہ فوری طور پر بون میرو کی منتقل کا عمل شروع کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…