بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا بھر میں سردی، آسٹریلیا میں گرمی نے گاڑی میں رکھا گوشت گلا دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

آسٹریلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کئی ممالک ان دنوں جہاں شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں وہیں جنوبی نصف کرہ میں واقع ہونے کے باعث آسٹریلیا میں اس قدر گرمی ہے کہ کھانے کی چیزیں تیار کرنے کے لیے آگ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آسٹریلوی ریاست وکٹوریہ کے شہر ملدورا میں ایک آسٹریلوی شخص نے اپنی گاڑی میں چند گھنٹوں کے لیے ایک بغیر پکی ہوئی اسٹیک چھوڑی۔

اور جب وہ واپس آیا تو اسٹیک گرمی کی وجہ سے پوری طرح کھانے کے لیے تیار ہو چکی تھی۔ اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق ملدورا ڈاک سائیڈ کیفے کے ملازم نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’گزشتہ روز صبح 11 بجے میں نے اپنی گاڑی چھاؤں میں کھڑی کی اور اس میں ایک بغیر پکی پورٹر ہاؤس اسٹیک چھوڑی اور اسے 4 بجے تک اسی سائے میں کھڑا کیے رکھا‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’میری واپسی تک اسٹیک اچھی طرح پک چکی تھی۔’ تاہم ان کی پوسٹ پر کئی افراد نے تبصرہ کیا کہ ان کا دعویٰ غلط ہے اور گرم ترین دنوں میں بھی چھاؤں میں کھڑی ہوئی گاڑی میں اسٹیک نہیں پک سکتی، دیگر افراد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اسٹیک پک سکتی ہے۔ ایک شخص نے لکھا کہ ’دھوپ میں کھڑی کی گئی گاڑی کا درجہ حرارت 60 سے 70 ڈگری سینٹی گریڈ ہوسکتا ہے لیکن چھاؤں میں کھڑی کی گئی گاڑی کا نہیں‘۔ جس شخص نے یہ تصاویر آن لائن پوسٹ کی اس کا کہنا تھا کہ ’میں لوگوں کو یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ گرمی کتنی زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔ آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق ملدورا میں اس تجربے کے روز درجہ حرارت 48.5 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت جہاں دنیا بھر کے ممالک شدید سردی اور برفباری کی لپیٹ میں ہیں، آسٹریلیا میں موسم شدید گرم ہے۔ آسٹریلیا جنوبی نصف کرہ میں واقع ہے جہاں تمام موسم شمالی نصف کرّہ سے الٹ ہوتے ہیں، یعنی اگر شمالی نصف کرّہ میں اپریل سے ستمبر کے مہینے تک موسم گرما ہوتا ہے تو ان ہی مہینوں میں جنوبی نصف کرّہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہوتا ہے۔ یہی حال نومبر سے لے کر فروری تک کا ہے کہ ان مہینوں میں جنوبی نصف کرّہ میں اس قدر شدید گرمی ہوتی ہے کہ آسٹریلیا میں جنگلات میں آگ بھی لگ جاتی ہے۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…