کمباریہ میں دریائے لیون پر قائم پل خوبصورتی کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کی تعمیر بھی افسانوی ہے جس پر بہت سے تاریخ دان اتفاق بھی کرتے ہیں‘ ان کے مطابق کمباریہ کے ’’ڈیول برج‘‘ کی تعمیر شیطان نے کی ہے۔آج یہ پل نوجوانوں کی اہم تفریح گاہ اور سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہے‘ گرمی کے ستائے نوجوان تیس فٹ بلند ’’ڈیول برج‘‘سے چھلانگ مارتے ہیں اور سخت گرمی میں دریا کے ٹھنڈے پانی سے خود کو تروتازہ کرتے ہیں۔ کوسٹ گارڈ اور پولیس کے مطابق یہ پل چھلانگیں مارنے کے لئے مناسب نہیں ہے
اور ا س سے جان جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ بہت سے نوجوان اس پل سے کودتے وقت لاپتا ہو جاتے ہیں اور تلاش کرنے پر ان کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔

سکون ٗ اطمینان اور خوشی ایسی چیزیں ہیں جو انسان دولت سے نہیں خرید سکتا لیکن اسے حاصل کرنے کے انداز انوکھے ہوتے ہیں۔ کوئی اس کے لئے مثبت طریقہ اختیار کرتا ہے تو کوئی منفی ٗ کچھ لوگ دوسروں کی مدد کر کے خوشی حاصل کرتے ہیں اور کچھ نادان دوسروں کودکھ دے کر خوش ہوتے ہیں۔ سکون ٗ اطمینان اور خوشی حاصل کرنے کے یہ مختلف طریقے ہر انسان اپنے مذہب ٗ عقائد ٗ خطے اور معاشرے میں موجود رسم و رواج کے مطابق اپناتا ہے۔غیر مسلم ممالک میں عموماً ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کرنے کے لئے نشہ آور چیزیں استعمال کی جاتی ہیں لیکن مسلمان اپنے مسائل کے حل اور ذہنی دباؤ سے چھٹکار ے کیلئے مساجد یادرگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ صدقہ و خیرات کر کے یا رفاہی کام کر کے اپنے دل کو سکون پہنچاتے ہیں۔ اپنی خوشی کو دوسروں کے لئے قربان کر کے بھی سکون حاصل کیا جا تا ہے‘ غرض اس دنیا میں سکون حاصل کرنے کے صحیح اور غلط بہت سے طریق ہیں جنہیں انسان اپنی سوچ اور عادات کے مطابق اپناتا ہے لیکن اگر گرمی اپنے عروج پر ہو اور سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو اور ہر ایک پسینے میں شرابور ہو تو پھر سکون حاصل کرنے کا سب سے موثر اور آسان ذریعہ دریا ٗنہر یا سمندر میں غوطہ لگانا ہے۔
اگر کسی انتہائی گرم دن نہر کے ٹھنڈے پانی میں تیرنے کا موقع مل جائے تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے اور سخت گرمی میں تازگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ اس لئے اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ گاؤں دیہات میں گرمی سے بچنے کیلئے نوجوان لڑکے دریاؤں اور ٹیوب ویل کے پانی میں نہاتے ہیں ۔ شہری علاقوں میں دریا تو نہیں ملتے لیکن اپنی اس خواہش کو وہ ساحل سمندر پر جا کر پورا کر لیتے ہیں‘ وہ گھنٹوں سمندر کی لہروں کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے رہتے ہیں۔کچھ نوجوان اتنے جوشیلے ہوتے ہیں کہ وہ تیز موجوں سے مقابلہ کرنے نکل جاتے ہیں۔ ایسا صرف پاکستان میں نہیں ہوتا‘ اس معاملے میں دنیا بھر کے نوجوان ایک خاص صفت کے مالک ہیں۔ پھر چاہے پاکستان ہو یا امریکا ٗ سعودی عرب ہو یا جاپان ٗ نوجوان چاہے کسی بھی خطہ زمین سے تعلق رکھتے ہوں ٗ
سمندروں کی لہروں سے لڑنا اور صحرا کی تپتی دھوپ سے مقابلہ کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔ وہ اپنے جوش میں تمام احتیاطی تدابیر کو فراموش کردیتے ہیں جسکے نتیجے میں ان سرپھرے نوجوانوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ڈھیروں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں نوجوانوں نے اپنی بداحتیاطی کی وجہ سے موت کو گلے لگایا۔ انگلستان میں واقع ’’شیطانی پل ‘‘ بھی جوشیلے نوجوانوں کی بداحتیاطی کی کہانیوں سے بھرا ہوا ہے۔
’’ڈیول برج‘‘ کی تعمیر ۔۔۔افسانہ یا حقیقت
شیطانی پل کی تعمیر کسی افسانوی کہانی کی طرح ہے جس پر بہت سے تاریخ دان اتفاق بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کمباریہ کے ’’ڈیول برج‘‘ کی تعمیر شیطان نے کی ہے‘ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک بیوہ گائے کے ہمراہ ’’ دریا لیون‘‘ کے کنارے رہتی تھی‘ یہ گائے ہی اس کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ تھی۔ ایک رات گائے حیرت انگیز طورپر دریا کے دوسرے کنارے پہنچ گئی جس پر وہ خاتون مایو س ہوگئی کیوں کہ زندگی کی گاڑی کو گائے کے بغیر کھینچنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا‘ وہ پریشان حال بیٹھی تھیں کہ اچانک شیطان نمودار ہوا اور اس سے کہنے لگا:’’ میں تمہارے لئے اس د ریا پر ایک برج تعمیر کر سکتا ہوں تا کہ تم دریا کے اس کنارے پر جا کر اپنی گائے تلاش کر سکو مگر میری شرط یہ ہے کہ برج تعمیر ہونے کے بعد تم جس جاندار کو سب سے پہلے دیکھو گی
اسے دریا میں پھینک کر میرے لئے قربان کروگی‘‘۔ بیوہ چونکہ بہت پریشان تھیں اس لئے شیطان کی مدد لینے کو تیار ہو گئیں اور شرط پوری کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ شیطان نے تھوڑی دیر میں برج تعمیر کر دیا‘ عورت نے نذرانے کے طورپر ایک کتا اس برج میں پھینک دیا جسے شیطان نے بخوشی قبول کیا اور غائب ہوگیا ۔ کہتے ہیں کہ شیطان کے پیروں کے نشان آج بھی دریا کے کنارے پرموجود ہیں۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر اس واقعے کے بعد سے اس برج کو ’’ڈیول برج‘‘ کے نام سے موسوم کر دیاگیا۔

کمباریہ میں دریائے لیون پر قائم یہ برج اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کی تعمیر کسی افسانوی کہانی کی طرح ہے جس پر بہت سے تاریخ دان اتفاق بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کمباریہ کے ’’ڈیول برج‘‘ کی تعمیر شیطان نے کی ہے‘ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک بیوہ گائے کے ہمراہ ’’ دریا لیون‘‘ کے کنارے رہتی تھی‘ یہ گائے ہی اس کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ تھی۔ ایک رات گائے حیرت انگیز طورپر دریا کے دوسرے کنارے پہنچ گئی جس پر وہ خاتون مایو س ہوگئی کیوں کہ زندگی کی گاڑی کو گائے کے بغیر کھینچنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا‘
وہ پریشان حال بیٹھی تھیں کہ اچانک شیطان نمودار ہوا اور اس سے کہنے لگا:’’ میں تمہارے لئے اس د ریا پر ایک برج تعمیر کر سکتا ہوں تا کہ تم دریا کے اس کنارے پر جا کر اپنی گائے تلاش کر سکو مگر میری شرط یہ ہے کہ برج تعمیر ہونے کے بعد تم جس جاندار کو سب سے پہلے دیکھو گی اسے دریا میں پھینک کر میرے لئے قربان کروگی‘‘۔ بیوہ چونکہ بہت پریشان تھیں اس لئے شیطان کی مدد لینے کو تیار ہو گئیں اور شرط پوری کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ شیطان نے تھوڑی دیر میں برج تعمیر کر دیا‘ عورت نے نذرانے کے طورپر ایک کتا اس برج میں پھینک دیا جسے شیطان نے بخوشی قبول کیا اور غائب ہوگیا ۔
کہتے ہیں کہ شیطان کے پیروں کے نشان آج بھی دریا کے کنارے پرموجود ہیں۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر اس واقعے کے بعد سے اس برج کو ’’ڈیول برج‘‘ کے نام سے موسوم کر دیاگیا۔ آج یہ برج نوجوانوں کی اہم تفریح گاہ اور سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہے‘ گرمی کے ستائے نوجوان تیس فٹ بلند’’ڈیول برج‘‘سے چھلانگ مارتے ہیں اور سخت گرمی میں دریا کے ٹھنڈے پانی سے خود کو تروتازہ کرتے ہیں ۔ کوسٹ گارڈ اور پولیس کے مطابق یہ برج چھلانگیں مارنے کے لئے مناسب نہیں اور اس سے جان جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ بہت سے نوجوان اس برج سے کودتے وقت لاپتا ہو جاتے ہیں اور تلاش کرنے پر ان کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں ۔
برج سے نوجوانوں کودور رکھنے کے لئے وہا ں کی حکومت نے اس علاقے میں جانے پر پابندی بھی لگائی ہے۔ اس کے علاوہ برج پر کوسٹ گارڈ کی بڑی تعداد چوبیس گھنٹے وہاں موجود رہتی ہے تا کہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے اورڈوبتے ہوئے نوجوانوں کی فوری مدد کے لئے پہنچا جا سکے۔برج پر جگہ جگہ بورڈ بھی آویزاں کئے گئے ہیں جن میں احتیاطی تدابیر اور برج سے چھلانگیں نہ لگانے کے احکامات درج ہیں لیکن نوجوان کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور لاکھ منع کرنے کے باوجود ہر روز نوجوانوں کی بڑی تعداد یہاں تفریح کے لئے پہنچ جاتی ہے۔ 30فٹ بلند اس برج سے چھلانگیں مار کردوسروں کو حیران کرنے کے ساتھ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام احتیاطی تدابیرناکام ہو چکی ہیں ۔
نوجوان بغیر کسی خوف کے درمیان میں تیرتے اور برج سے چھلانگیں لگاتے نظر آتے ہیں ۔ اپنی اس حرکت کی وجہ سے بہت سے نوجوان زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔22 سالہ ’’ ڈریل ٹیل‘‘ نامی نوجوان اپنے خاندان کو حیران کرنے کے لئے اس برج پر آیا تا کہ یہاں سے دریا میں چھلانگ مار کر داد وصول کر سکے مگر برج سے کودنے کے بعد وہ لاپتا ہو گیا اور کوشش کے باوجود اس کا نام و نشان بھی نہ مل سکا۔اس کے والد کا کہنا ہے ’’ ہم بہت خوش تھے اور اپنی چھٹیاں منانے اس خوبصورت مقام پر آئے تھے‘ میرے بیٹے نے ہمیں حیران کرنے کے لئے جب برج سے چھلانگ لگائی تو میں کچھ نہ کر سکا اور وہ میری آنکھوں کے سامنے لاپتا ہو گیا ۔
دو دن بعد ریسکیو ٹیم نے اس کی لاش دریا سے برآمد کی۔’’ہالی میک کولٹ‘‘ بھی اس برج سے چھلانگ لگانے کے بعد لاپتاہو گیا تھا جسے کوسٹ گارڈ ار ریسکیو ٹیم نے 24گھنٹوں کی تلاش کے بعد برآمد کیا لیکن اس واقعے کے بعد وہ چلنے کے قابل نہ رہا۔اس طرح کے بہت سے واقعات دریائے لیون پر پیش آتے رہتے ہیں۔ ہر روز کسی نہ کسی کے لاپتاہونے کی خبر اخبارات میں چھپتی رہتی ہے لیکن سر پھرے نوجوان ہر خبر کو نظر انداز کر کے ’’دریائے لیون‘‘ کی سیر کو آتے ہیں اور دریا کی بلند لہروں کو قابو کرنے کے لئے کرتب دکھاتے ہیں۔ کاش! وہ یہ سوچ سکیں کہ ایسے مظاہرے دکھانے سے ان کی جانیں بھی جا سکتی ہیں۔


















































