اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

5 فٹ 9 انچ لمبے پیروں کے نشانات دریافت

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی مغربی آسٹریلیا میں سائنسدانوں نے ڈائنا سور کے پیر کے نشانات دریافت کیے ہیں جو کہ دنیا میں سب سے بڑے قرار دیئے جارہے ہیں جن کی لمبائی لگ بھگ 5 فٹ نو انچ ہے۔اس سے پہلے اس طرح کے سب سے بڑے نشانات

گزشتہ سال جولائی میں بولیویا میں ملے تھے جن کی لمبائی 3 فٹ 9 انچ تھی۔کوئنز لینڈ یونیورسٹی کے محققین نے اب سارپوڈ نامی ڈائنا سور کے نئے نقش پا کو دریافت کیا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ عظیم الجثہ نشانات مسحور کردینے والے ہیں اور ان کی لمبائی کا مقابلہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔یہ نشان مغربی آسٹریلیا میں Dampier Peninsula کے علاقے والماڈینی میں چونے کے پتھروں کی چٹانوں پر دریافت ہوئے۔محققین کے خیال میں یہ جس ڈائنا سور کے پیر کے نشانات ہیں وہ کم از کم 17 فٹ 9 انچ لمبا ہوگا۔Dampier Peninsula میں اب تک اکیس مختلف ڈائنا سور کے پیروں کے نشانات کو دریافت کیا گیا ہے اور محققین کے خیال میں وہاں موجود بیشتر چٹانیں 140 ملین سال پرانی ہیں۔تحقیقی ٹیم کے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس علاقے کی حالت اس طرح کے نشانات کے بننے اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے مثالی ہے۔یہ ٹیم گزشتہ پانچ سال سے اس علاقے میں کام کررہی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…