اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)2016 کے اولمپکس مقابلوں میں شریک لگ بھگ ہر ایتھلیٹ کے پس منظر میں دلچسپ کہانی موجود ہوگی مگر یسریٰ مردینی ان سب کے مقابلے میں غیرمعمولی پیراک ہیں۔یسریٰ اولمپکس مقابلوں میں شریک 10 تارک وطن ایتھلیٹس میں سے ایک ہیں۔دیگر 18 سال کے کھلاڑیوں کے لیے اس عمر میں یہاں تک پہنچنا ہوسکتا ہے سب سے بڑی کامیابی ہو مگر یسریٰ کا کسی سے موازنہ ممکن نہیں۔یسریٰ اور ان کی بہن ترکی سے یونان جانے والی تارکین وطن کی کشتی میں سوار 20 افراد کی جانیں اس وقت بچائیں جب وہ راستے میں خراب ہوگئی۔ان دونوں بہنوں نے سمندر میں چھلانگ لگائی اور تین گھنٹے تک اسے دھکا دے کر خشکی تک پہنچایا۔یسریٰ اب جرمن شہر برلن میں مقیم ہیں اور وہ ویمن سوئمنگ کے سو میٹر بٹر فلائی اور فری اسٹائلز مقابلوں کے کوالیفائرز میں شرکت کررہی ہیں اور ان مقابلوں کو اولمپکس کے اہم ترین ایونٹس میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔
یسریٰ جنگ زدہ شام کی باصلاحیت پیراک ہیں جن کو شامی اولمپک کمیٹی کی حمایت بھی حاصل تھی، تاہم ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اور ان کی بہن سارہ شام سے نکل گئے، جہاں سے وہ پہلے لبنان اور پھر ترکی پہنچے جس کے بعد یونان پہنچنے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے۔ترکی سے نکلنے کے آدھے گھنٹے بعد ہی چھ افراد کی گنجائش والی کشتی کا انجن بند ہوگیا جس پر 20 افراد سوار تھے۔کشتی پر سوار بیشتر افراد تیرنا نہیں جانتے تھے مگر اس موقع پر یسریٰ، سارہ اور دیگر دیگر افراد نے سمندر میں چھلانگ لگائی اور پبھرے پانی میں تین گھنٹے لگاتار تیر کر کشتی کو لیسبوس تک پہنچایا۔وہ اس حوالے سے بتاتی ہیں ” صرف ہم چاروں کو ہی تیرنا آتا تھا، میرے ایک ہاتھ مین رسی تھی جو کشتی سے منسلک تھی اور میں ٹانگوں اور ایک ہاتھ کی مدد سے آگے بڑھ رہی تھی ، ٹھنڈے پانی میں ہم ساڑھے تین گھنٹے تک رہا، میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جو بتا سکے کہ اس وقت میرے جسم کو کیسا محسوس ہورہا تھا”۔
اب وہ کھلے پانی کو پسند نہیں کرتیں مگر یہ ان کے لیے بھیانک خواب نہیں تھا ” مجھے یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ بغیر تیراکی کے میں اب ہوسکتا ہے زندہ نہ ہوتی اور میرے لیے یہ مثبت یاد ہے”۔یونان سے یہ دونوں بہنیں مقدونیہ، سربیا، ہنگری اور آسٹریا سے گزر کر جرمنی پہنچیں ” وہ بہت سخت سفر تھا، اگر کوئی اس منزل تک پہنچنے کے دوران رونے لگے تو وہ کمزور نہیں ہوتا، مگر اکثر اوقات آپ کو بس آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے”۔اولمپکس کے لیے ریو ڈی جنیرو پہنچنے پر یسریٰ کا کہنا تھا ” میں چاہتی ہوں کہ سب یہ سوچیں کہ تارکین وطن عام لوگ ہیں جو اپنے آبائی وطن سے محروم ہوچکے ہیں کیونکہ وہ اپنے خوابوں کو تعبیر دینا چاہتے ہیں، ہر ایک نئی اور بہتر زندگی چاہتا ہے، اسٹیڈیم میں داخل ہونے کے بعد ہم تارکین وطن کی ٹیم ہر ایک کے اندر یہ حوصلہ پیدا کرے گی کہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کی جانب بڑھیں”۔
20 ڈوبتے ہوئے افراد کو بچانے والی بہادر مسلمان لڑکی کی کہانی ۔۔جو تیراک بن کر اولمپکس میں پہنچ گئی۔۔جان کر حیران رہ جائیں گے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
موبائل بیلنس کی میعاد 1 ماہ سے بڑھا کر 180 دن مقرر، پی ٹی اے نے صارفین کو بڑی سہولت دے دی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟



















































