ولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں کیرٹ ہاﺅس کو دنیا کا سب سے تنگ یا پتلا گھر قرار دیا جاتا ہے۔ دو منزلہ اس عمارت میں ایک چھوٹا کچن، باتھ روم، لیونگ روم اور بیڈروم موجود ہے جبکہ اس کی چوڑائی محض 36 انچ کی ہے۔ اس گھر کو 2012 میں آرکیٹکٹ جیکب اسکیزسنی نے پولش ماڈرن آرٹ فاﺅنڈیشن کے لیے تعمیر کیا تھا۔ اکتوبر 2012 سے یہ گھر عوام کے لیے کھلا ہوا ہے مگر یہ ہر وقت لوگوں کے لیے دستیاب نہیں ہوتا بلکہ اس کے نگران ایٹگر کیرٹ (جو ایک مصنف ہیں) سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ یہاں کوئی بھی مستقل طور پر نہیں رہتا بلکہ اکثر یہاں آرٹسٹوں کو کچھ وقت کے لیے رہنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس گھر کو باہر سے دیکھنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ دو بڑی عمارت کے درمیان چھوٹے سے خلاءکے درمیان پھنسا ہوا ہے، اس مقام کو پہلے مقامی رہائشی کچرا پھینکنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ گھر ٹرائی اینگل شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے پہلی منزل میں جگہ اتنی کم ہے کہ لوگوں کے لیے پاﺅں پھیلا کر بیٹھنا بھی ممکن نہیں۔سونے کے کمرے میں ایک بستر اور چھوٹی سی ڈیسک ہے تاکہ آرٹسٹ اپنا کام اور آرام دونوں کرسکیں۔




















































