پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

روجھان کے سیلاب متاثرین نے گدھا فین ایجاد کر لیا!

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

روجھان(نیوزڈیسک) ضرورت ایجا د کی ماں ہوتی ہے یہ محاورہ کتنا سچ ہے اس کا اندازہ گدھا فین کی ایجاد سے ہی لگایا جا سکتا ہے جو زمانہِ جدت کے عروج پر ہونے کے باوجود گرمی کی شدت کو ختم کرنے کے لئے سیلاب اور غربت کے مارے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تیار کیا ہے۔روجھان کا علاقہ گڈا نار، جہاں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جن کے لیے ایکیسویں صدی ہونے کے باوجود بجلی کا کوئی انتظام نہی ہے، انہوں نے کڑکتی دھوپ سے بچنے کے لئے تیار کیا ہے ایک ایسا پنکھا جو نہ صرف گرمی کی شدت کم کرتا ہے بلکہ انہیں راحت بھی پہنچاتا ہے۔ اس پنکھے کو گدھا فین کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس پنکھے کی پنکھڑیوں سے ہوا لینے کے لئے ایک عدد گدھے کی ضرورت رہتی ہے جسکے گول دائرے میں گھومنے سے انکے لئے ہوا میسر آتی ہے۔روجھان کی غریب اور بے سروسامان آبادی کا کہنا ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں، ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ گدھا پنکھا تیا ر کر رکھا ہے جس سے گرمی کی شدت پر ہم قابو پا لیتے ہیں جب ہوا نہیں ہوتی تو مچھر مشکلات سے دوچار کرتے ہیں ان حالات میں گدھا فین روجھان کے بے سروسامان لوگوں کا واحد سہارا ہوتا ہے جو بغیر بجلی خرچ کئے اور بغیر اپنے صارفین کو بجلی کے بلوں کے جھٹکے لگائے ان کے کام آتا ہے۔روجھان کے یہ لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی بھی ہمدردی کرنے نہیں آتا۔
گدھا فین استعمال کرنے والی روجھان کی ایک خاتون، رہبر مائی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بجلی کا کوئی انتظام نہی ہے جس کی وجہ سے مچھروں کی وجہ سے کافی پریشانی ہوتی ہے خاص طور پر بچے تو بہت ہی زیادہ تنگ ہوتے ہیں ۔اب کیا کریں گزارا تو کرنا ہے چاہے وقت کیسا بھی آ جائے اور ان حالات میں گدھا فین استعمال کرنا ہماری مجوری بن چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…