اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

طالب علموں تک خود پہنچنے والے ’تیرتے اسکول

datetime 24  فروری‬‮  2015 |

کیا آپ نے ایسا اسکول دیکھا ہے جو ہر طالب علم کے گھر جائے اور تمام طالب علموں کو لے کر آنے کے بعد ایک جگہ ٹھہر کر پڑھائی شروع کرے جی ہاں یہ بالکل سچ ہے کیوں کہ بنگلا دیش میں تیرتی کشتیوں پر قائم اسکول نہ صرف طالب علموں کو تعلیم فراہم کررہے ہیں بلکہ ان پر کلینک اور لائبریریوں کی سہولیات بھی موجود ہیں۔
بنگلا دیش میں ہر سال مون سون بارشوں سے اس کے سیکڑوں چھوٹے بڑے دریا پانی سے بھر جاتے ہیں اور سیلاب کا پانی ایک عرصے تک موجود رہتا ہے، اس سے زندگی کے روزمرہ کے کام تو متاثر ہوتے ہیں لیکن ہزاروں بچوں کی تعلیم کئی ماہ تک معطل ہوکر رہ جاتی ہے۔
بنگلادیش کی غیرسرکاری تنظیم شدولائی سوانائیورسنگھشت نے کشتی اسکولوں کا ایک بیڑہ تیار کیا ہے اوران میں سے ہر کشتی دریا کنارے رہنے والے طالب علموں کے گاؤں سے گزرتی ہوئی بچوں کواس میں بٹھاتی ہے اور آخری طالب علم کو لے کر ایک جگہ رک جاتی ہے اور پھر کسی عام اسکول کی طرح کشتی اسکول میں پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، خاص طور پر ڈیزائن کردہ ان تیرتے اسکولوں کی چھتوں پر سولر سیلز نصب ہیں اور اس طرح روشنی ہونے سے شام دیر تک بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…