اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بنگلور کا کروڑ پتی حجام

datetime 24  فروری‬‮  2015 |

بال تراشنے کا کام کرنے والے حجام کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں کسی غریب نائی کا چہرہ ابھرتا ہے لیکن بنگلور میں ایک ایسا حجام ہے ‘ جس نے سائیڈ بزنس سے دولت اکٹھی کر کے ایسا سیلون بنایا ہے جس میں اعلیٰ پولیس عہدیدار ‘سیاستدان ‘فلم اسٹارس تک زلف تراشنے کے لیے آتے ہیں۔ بنگلور شہر میں ’’اتر اسپیس‘‘ کے نام سے مشہوریہ سیلون رمیش بابو چلاتے ہیں جو خود پیشہ سے حجام ہیں۔ ان سے بال کٹوانے کے لیے آپ کو پہلے سے وقت لینا پڑے گا اور ان کی فیس 200روپے ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی بلکہ جنہوں نے اپنے بال ان کے ہاتھوں کٹوائے ہیں ان کو فخر ہو گا کہ یہ صاحب 3کروڑ روپے مالیتی رولس رائس گاڑی کے مالک ہیں۔ ان کے پاس مختلف اقسام کی ایک سے ایک قیمتی 200گاڑیاں ہیں۔ ان میں 75بی ایم ڈبلیو گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ انہوں نے یہ دولت اپنے پیشے سے حاصل نہیں کی۔ پھر یہ دولت کیسے آئی اس کے بارے میں رمیش بابو کا کہنا ہے کہ حجامت کرتے انہوں نے ایک ماروتی 800کار خریدی اور اس کو کرایہ پر چلانا شروع کیا۔ جب کاروبار ہونے لگا تو رمیش کا خیال آیا کہ معمولی گاڑی سے معمولی کرایہ حاصل کرنے کی بجائے کیوں نہ کوئی غیر معمولی گاڑی خرید کر غیر معمولی کرایہ وصول کیا جائے۔ چنانچہ رمیش بابو نے کڑی محنت اور کچھ قرض لے کر ایک مرسیڈیز گاڑی خریدی اور اس گاڑی کو اونچے داموں پر کرائے پر دینے لگے عام طور پر حکومت یا بڑے ہوٹلوں کے مالکین کسی بڑی شخصیت کے لیے اعلیٰ ترین گاڑی کی تلاش میں ان کے پاس آتے تھے۔ اس طرح ایک گاڑی سے رمیش بابو کے پاس 200گاڑیاں ہو گئیں۔ لیکن انہوں نے اپنی قدیم ماروتی کو آج بھی سنبھال کر رکھا ہے۔ رمیش کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا جب 1979ء میں ان کی عمر سات برس تھی۔ والدہ گھروں میں کام کر کے خاندان کی کفالت کرتی تھیں۔ رمیش کو حصے یہی حجام کی دکان ملی تھی لیکن انہوں نے سوجھ بوجھ کر ذریعہ اپنا کاروبار خوب چمکایا۔ رمیش بابو پر کئی دستاویزی فلمیں بن چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…